صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 77
صحيح البخارى جلده 46 ۵۵ - كتاب الوصايا ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے پوچھا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وصیت کی تھی؟ تو أَوْصَى فَقَالَ لَا فَقُلْتُ كَيْفَ كُتِبَ انہوں نے کہا: نہیں۔میں نے کہا: پھر لوگوں پر کیسے عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ أَمِرُوْا بِالْوَصِيَّةِ وَمِیت فرض کی گئی یا ( یہ کہا کہ انہیں وصیت کا علم ) کیسے دیا گیا؟ حضرت عبداللہ نے کہا: آپ نے قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللهِ۔اطرافة: ٤٤٦٠ ٥٠٢٢ کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی ہے۔٢٧٤١: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ :۲۷۴۱ عمرو بن زرارہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيْلُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ بن علیہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے (عبداللہ ) بن عون إِبْرَاهِيْمَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ ذَكَرُوْا عِنْدَ ہے، ابن عون نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے اسود عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ ( بن یزید ) سے روایت کی، کہا کہ (بعض لوگوں) نے حضرت عائشہ کے پاس یہ ذکر کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہما وَصِيًّا فَقَالَتْ مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ وَقَدْ نبی ﷺ کے وصی تھے۔انہوں نے کہا: آپ نے اُن کو كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي أَوْ قَالَتْ کب وہی بنایا تھا، بحالیکہ میں تو آپ کو وفات کے وقت حَجْرِي فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَلَقَدِ انْخَنَثَ اپنے سینے سے سہارا دیئے ہوئے تھی۔یا کہا: اپنی گود میں فِي حَجْرِي فَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ لئے ہوئے تھی۔آپ نے طشت منگوایا اور میری گود ہی میں آپ جھک گئے اور مجھے پتہ ہی نہ لگا کہ آپ فوت ہو گئے فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ۔طرفة: ٤٤٥٩۔ہیں۔تو آپ نے علی کے حق میں کب وصیت کی تھی ؟ تشریح: وَصِيَّةُ الرَّجُلِ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ : عنوان باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس ارشاد کا حوالہ درج ہے وہ بالمعنی ہے۔ارشاد نبوی کے مروی الفاظ یہ ہیں: مَا حَقُّ امْرِي مُسْلِمٍ لَّهُ شَيْءٌ يُؤْصِي فِيهِ يَسْتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِندَهُ۔(روایت نمبر ۲۷۳۸) باب کے شروع میں جس آیت کا ذکر کیا گیا ہے، وہ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۱۸ ہے۔ارشاد باری تعالیٰ کا اطلاق ہر مرنے والے پر ہوتا ہے کہ اُس کے لئے وصیت کرنا واجب ہے۔فقہاء نے اس کے لئے صحت عقل و رشد اور بلوغت شرط قرار دی ہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک نابالغ بچے وصیت کرنے کے اہل نہیں۔موصی اُن ورثاء کے لئے جن کے حصص وصیت قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں، وصیت نہیں کر سکتا۔امام مالک نے نابالغ غیر عاقل بچے کی وصیت جائز قرار دی ہے۔موصی غیر رشتہ دار کے حق میں وصیت کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس بارہ میں فقہاء کا اختلاف ہے۔جمہور کے نزدیک کر سکتا ہے، لیکن اگر وصی (یعنی جس کے حق میں وصیت کی گئی ہو )