صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 72
صحيح البخارى جلده ۷۲ ۵۴ - كتاب الشروط ہر شرط جو کتاب اللہ کے خلاف ہو ؛ ساقط الاعتبار ہوگی۔عنوان باب میں دو حوالے منقول ہیں۔ایک حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت کا جو سفیان ثوری نے کتاب الفرائض میں نقل کی ہے کہ غلاموں کی آزادی سے متعلق جو شرطیں اُن کے مالکوں سے طے ہوں وہ قابل اعتبار مجھی جائیں گی (عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۲۰) اور دوسرے حوالے سے اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ ایسی شرطیں خلاف شریعت نہ ہوں۔روایت نمبر ۲۷۳۵ کے لئے کتاب العتق باب اروایت نمبر ۲۵۳۶ دیکھئے۔بَاب ۱۸: مَا يَجُوْزُ مِنَ الْاِشْتِرَاطِ وَالدُّنْيَا فِي الْإِقْرَارِ والشروط الَّتِي يَتَعَارَفُهَا النَّاسُ بَيْنَهُمْ اس بیان میں کہ اقرار میں شرط لگانا اور استثناء کرنا جائز ہے اور اُن شرطوں کا بیان جو عرفاً لوگ آپس میں کرتے ہیں دِرْهَم فَلَمْ يَخْرُجْ فَقَالَ شُرَيْحٌ مَنْ شَرَطَ عَلَى نَفْسِهِ طَائِعًا غَيْرَ مُكْرَهِ فَهُوَ وَإِذَا قَالَ مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ۔اور اگر کوئی کہے کہ میرے ذمہ فلاں شخص کے) سو روپے وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ سِيْرِيْنَ قَالَ نکلتے ہیں مگر ایک یا دو کم ( تو ننانوے یا اٹھانوے دینے الرَّجُلُ لِكَرِيهِ أَدْخِلْ رِكَابَكَ فَإِنْ لَّمْ ہوں گے۔) اور ابن عون نے ابن سیرین سے نقل کیا کہ أَرْحَلْ مَعَكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا فَلَكَ مِائَةُ ایک شخص نے اپنے کرائے کے اونٹ والے سے کہا کہ اپنا اُونٹ اندر لے آ اور اگر میں نے تمہارے ساتھ فلاں فلاں دن سفر نہ کیا تو تمہیں سو درہم ملیں گے۔پھر وہ (اُس دن سفر کو ) نہ نکلے۔تو شریح نے کہا: جو اپنے عَلَيْهِ۔وَقَالَ أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ سِيْرِيْنَ او پر خوشی سے کوئی شرط لگائے اور کسی نے اُسے مجبور نہ إِنَّ رَجُلًا بَاعَ طَعَامًا قَالَ إِنْ لَّمْ آتِكَ کیا ہو تو وہ شرط اُس کے ذمہ واجب ہوگی۔اور ایوب الْأَرْبِعَاءَ فَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بَيْعٌ فَلَمْ نے ابن سیرین سے نقل کیا کہ کوئی شخص آناج بیچے يَحِي فَقَالَ شُرَيْحٌ لِلْمُشْتَرِي أَنْتَ (اور) یہ ہے کہ اگر میں بدھ تک تمہارے پاس نہ آیا تو میرے اور تمہارے درمیان کوئی بیج نہ رہے گی اور پھر وہ أَخْلَفْتَ فَقَضَى عَلَيْهِ۔نہ آیا تو شریح نے خریدار سے کہا: تم نے خلاف ورزی کی ہے۔پس انہوں نے اُس کے خلاف فیصلہ کیا۔٢٧٣٦ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :٢٧٣٦ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب