صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 70 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 70

صحيح البخاری جلده بَابِ ١٦ : الشُّرُوْطُ فِي الْقَرْضِ قرض میں شرطیں کرنے کا بیان ۵۴ - كتاب الشروط ٢٧٣٤: وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي :۲۷۳۴ لیٹ نے کہا: جعفر بن ربیعہ نے مجھ سے جَعْفَرُ بْنُ رَبِيْعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بنِ بیان کیا۔انہوں نے عبدالرحمن بن ہرمز سے، هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عبد الرحمن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جس نے أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا سَأَلَ بَعْضَ بَنِي بنی اسرائیل میں سے کسی شخص کو ایک ہزار دینار قرض إِسْرَائِيْلَ أَنْ يُسْلِفَهُ أَلْفَ دِيْنَارٍ فَدَفَعَهَا دینے کے لئے کہا اور اُس نے اُس کو وہ اشرفیاں إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى۔مقررہ معیاد تک کے لئے دے دیں۔وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عطاء وَعَطَاءً إِذَا أَجَلَهُ فِي الْقَرْضِ جَازَ۔بن ابی رباح) نے کہا: اگر قرض میں مدت مقرر کر لیں تو یہ جائز ہے۔اطرافه: ١٤٩٨، ۲۰۶۳، ۲۲۹۱، ٢٤۰٤، ٢٤٣٠، ٦٢٦١، تشريح : الشَّرُوطُ فِي الْقَرْضِ : مرور الاوات کی تفصیل کیلے کتاب الکفاله بابا روایت نمبر ۲۹، كتاب الإستقراض باب ۷ اروایت نمبر ۲۴۰۴ د یکھئے۔بَاب :١٧: اَلْمُكَاتَبُ وَمَا لَا يَحِلُّ مِنَ الشُّرُوطِ الَّتِي تُخَالِفُ كِتَابَ اللَّهِ مکاتب کا بیان اور ایسی ناجائز شرائط کا بیان جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے خلاف ہوں وَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ الله اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جو عَنْهُمَا فِي الْمُكَاتَبِ شُرُوطُهُمْ بَيْنَهُمْ۔شرائط مكائب غلام لونڈی اور اُن کے مالکوں میں طے ہوں وہ معتبر ہوں گی۔وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَوْ عُمَرُ كُلُّ اور حضرت ابن عمرؓ نے یا حضرت عمر نے کہا: ہر شرط جو شَرْطٍ خَالَفَ كِتَابَ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ اللہ کی کتاب کے خلاف ہو وہ باطل ہے گو وہ سو شرطیں