صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 69 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 69

صحيح البخاری جلده ٦٩ ۵۴ - كتاب الشروط عیوب کا استیصال کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ حضرت ابو بکر ابو بکر رضی اللہ عنہ کی غیرت ایمانی تھی کہ آپ عروہ بن مسعود کی یہ طعنہ زنی برداشت نہ کر سکے کہ مہاجرین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غداری کریں گے اور مذکورہ بالا فقرے سے اُن کے عیوب کی طرف اشارہ کیا جولات دیوی کے پجاریوں میں عام تھے۔ أَى غُدَرُ اَلَسْتُ اَسْعَى فِي غَدْرَتِكَ ۔۔۔۔۔۔ غُدَرُ، عُمَرُ کے وزن پر غدر سے مشتق ہے۔ یعنی بڑا دغا باز ۔ ان الفاظ سے جس واقعہ کی طرف عروہ بن مسعود نے اشارہ کیا ہے اُس کا تعلق بنو ثقیف کے چند آدمیوں کے قتل سے ہے۔ جنہیں مغیرہ بن شعبہ نے ایک سفر میں دھوکے سے مار کر مال و متاع لوٹ لیا تھا۔ یہ لوگ بنو مالک قبیلہ میں سے تھے، جو بنوں جو بنو ثقیف ہی کی شاخ تھی ما شاخ تھی اور علاقہ طائف کے باشندے تھے ۔ تھے۔ یہ لوگ مقوقس شاہ مصر کی ملاقات کے لئے گئے تھے، جو اُن سے عزت و اکرام سے پیش آیا اور اُن کو تحفے تحائف دیئے مگر مغیرہ بن شعبہ سے بے التفاتی برتی گئی جس پر اُس نے انتقام لینے کی ٹھان لی۔ راستے میں ایک پڑاؤ پر ان لوگوں نے خوب شراب پی اور جب وہ خواب غفلت میں مدہوش پڑے ہوئے تھے، مغیرہ بن شعبہ نے ان سب کو ٹھکانے لگا دیا اور اُن کا مال و اسباب لے کر چلے آئے۔ اس واقعہ سے قبیلہ بنو مالک اور قبیلہ مغیرہ بن شعبہ میں فتنہ کی آگ بھڑک اُٹھی۔ عروہ بن مسعود کو جو مغیرہ کے چچا تھے، دخل دینا پڑا اور دیت وغیرہ دے دلا کر ان کی صلح کرائی تھی اور اس طرح بمشکل وہ فتنہ فرو ہوا تھا۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۱۸) وَهُوَ رَجُلٌ فَاجِرٌ ۔۔۔۔۔ فجور کے معنی بد عہدی کے ہوتے ہیں اور فاجر عہد شکن کو کہتے ہیں۔ امام ابن حجر نے انہی معنوں میں یہ لفظ لیا ہے۔ ابن اسحاق کی روایت میں لفظ غَادِرٌ وارد ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ مکر زبن حفص کے خورد سال بھائی کو بنو بکر قبیلہ کے ایک شخص نے بطور انتقام قتل کر دیا تھا۔ قریش نے دخل دے کر دیت پر صلح کرادی مگر مکرز کو اس سے تسلی نہ ہوئی۔ اس نے بنو بکر کے سردار عامر بن یزید کو دھوکہ سے قتل کر دیا۔ جس کی وجہ سے وہ غادر (دھوکہ باز ) کے نام سے مشہور ہوا۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه (۴۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی شہرت کی بناء پر لفظ فاجر یا غادر استعمال فرمایا ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر اُس کی طرف سے کوئی غداری نہیں ہوئی ۔ بلکہ حضرت ابو جندل کے واقعہ میں مکرز نے ہمدردی کا اظہار کیا اور سہیل کو مشورہ دیا تھا کہ ابو جندل کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی رہنے دیا جائے؟ جیسا کہ اسی روایت میں مذکور ہے۔ فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيرٍ ۔۔۔ فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ : ابوبصیر کے رشتہ داروں اخنس بن شریق اور از ہر بن عبد عوف نے مدینہ منورہ کو دو آدمی بھیجے۔ ایک اپنا غلام اور ایک شخص قبیلہ بنو عامر کا جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تحریراً مطالبہ کیا کہ اپنے عہد کا خیال رکھیں اور شرائط کے مطابق ابو بصیر کو مکہ مکرمہ کی طرف لوٹا دیں۔ چنانچہ آپ نے اُس کو واپس جانے کا ارشاد فرمایا اور وہ مدینہ سے نکل گئے ۔ روایت نمبر ۲۷۳۳ کے آخر میں اخنس بن شریق کے خط لکھنے کا ذکر بھی ہے: وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَصِيْرِ بْنَ أَسِيدٍ الثَّقَفِيُّ قَدِمَ ۔۔۔۔۔ فَكَتَبَ الأَخْنَسُ یہ قول زہری کا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۲۸، ۴۳۱)