صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 68 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 68

صحيح البخارى جلده ۶۸ ۵۴ - كتاب الشروط اور داؤ مراد ہیں جن پر میدانِ جنگ میں عمل کیا جاتا ہے۔پس الْحَرْبُ خُدعة کی آڑ میں شرائط معاہدہ میں دھو کے اور فریب سے کام لیا جانا کسی طرح بھی درست نہیں قرار پا سکتا۔مغربی اقوام کی موجودہ سیاست مکاولی (Machiavelli) اُصول کے نام سے نہایت ہی گھناؤنی شکل میں شہرت پاچکی ہے۔مگر شریعت اسلامیہ نے اس مکارانہ اور ظالمانہ سیاست کی کسی صورت میں بھی اجازت نہیں دی۔امام بخاری نے اس غرض سے صلح حدیبیہ کا واقع منفصل نقل کر کے مذکورہ بالا عنوان قائم کیا ہے اور بتایا ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت شرطیں صحابہ کی مرضی و منشاء کے خلاف طے پائیں جو بظاہر قومی غیرت کو سخت مجروح کرنے والی تھیں۔باوجود اس کے انہوں نے اُن میں کوئی خلل واقع نہیں ہونے دیا بلکہ وہ ان سے پورے طور پر عہدہ برآ ہوئے۔وَكَانُوا عَيْبَةَ نُصْحٍ رَسُولِ اللهِ عله : مذکورہ بالا روایت میں بعض فقرے قابل تشریح ہیں۔عَيْبة کے لفظی معنی صندوق کے ہیں جس میں پوشاک و سامان زیبائش محفوظ رکھا جاتا ہے۔یہ لفظ بطور استعارہ بھی استعمال ہوتا صلى الله ہے۔رازدار کو عَيْبَةُ سِر اور خیر خواہ کو غیبَةُ نُصْح کہتے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۸) بدیل خزاعی فتح مکہ کے وقت مسلمان ہو گئے تھے۔جب بدیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے مقام حدیبیہ میں آئے تو عمرو بن سالم، خراش بن امیہ، خارجہ بن کرز اور یزید بن امیہ اُن کے ساتھ تھے۔تہامہ کا علاقہ وہی ہے، جس میں مکہ مکرمہ واقع ہے۔کعب بن لوئی اور عامر بن لوئی سے مراد قبائل قریش ہیں جو اپنے جد امجد کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۱۳-۴۱۴ ) (عمدۃ القاری جز ۱۴۰ صفحه ۸) أمُصُضٌ بَطْرَ اللَّاتِ : یہ کلمات عرب لوگ گالی کے طور پر استعمال کرتے تھے۔لیکن یہ فقرہ استعارہ غصہ دلانے اور خمیازہ بھگتنے کے معنوں میں بھی ہو سکتا ہے۔لات طائف میں قبیلہ بنو ثقیف کی دیوی تھی اور اُسی کے نام پر بت خانہ تھا جو ایک چٹان پر واقع تھا۔لات دیوی خوبصورت پوشاک میں ملبوس اور زیوروں سے آراستہ و پیراستہ رکھی جاتی تھی۔نہ صرف بنوثقیف بلکہ سارا عرب ہی اُس کی پوجا کرتا تھا۔جس طرح ہندوؤں میں لنگ پو جا وغیرہ کا رواج ہے اسی طرح کی ایک پوجا اس بت خانہ میں بھی ہوتی تھی اور لات کے پجاریوں میں زنا کاری اور شراب خوری بکثرت تھی۔جب فتح مکہ کے بعد بنو ثقیف کا وفد کنانہ بن عبدیالیل کی سرکردگی میں صلح کی غرض سے مدینہ منورہ آیا اور آنحضرت ﷺ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو پہلا سوال انہوں نے یہی کیا تھا: أَفَرَأَيْتَ الزِّنَا فَإِنَّا قَوْمٌ نَغْتَرِبُ لَا بُدَّ لَنَا مِنْهُ۔زنا کی نسبت آپ کا کیا خیال ہے۔ہمیں اس سے چارہ نہیں، سفر کرنے پڑتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زنا اسلام میں حرام ہے اور انہوں نے شراب اور سود وغیرہ سے متعلق بھی دریافت کیا اور لات کی پوجا کی نسبت بھی پوچھا۔آپ نے قرآن مجید کی آیات انہیں سنائیں اور فرمایا: یہ سب باتیں حرام ہیں۔اسلام قبول کرنے کے بعد ترک کرنا ہوں گی اور لات کی دیوی توڑی جائے گی۔چنانچہ انہوں نے اسلام قبول کیا اور رات کا بت خانہ گرانے کے لئے ابوسفیان بن حرب اور مغیرہ بن شعبہ؛ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت بھیجے گئے اور آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکورہ بالا دلائل النبوة للبيهقى، باب قدوم وفد ثقيف، جزء ۵ صفحه ۳۸۶)