صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 67
صحيح البخاری جلده ۶۷ ۵۴ - كتاب الشروط فَلَمَّا أَبَى الْكُفَّارُ أَنْ يُقِرُّوا بِأَدَاءِ مَا ابو ہم نے۔ اور جب کفار نے اُس خرچ کی ادائیگی کا أَنْفَقَ الْمُسْلِمُوْنَ عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَنْزَلَ اِقرار کرنے سے انکار کیا جو مسلمانوں نے اپنی بیویوں اللهُ تَعَالَى وَإِنْ فَاتَكُمْ شَيْءٍ پر کیا تھا تو اللہ تعالی نے یہ وحی نازل کی: اگر تمہاری مِنْ أَزْوَاجِكُمْ إِلَى الْكُفَّارِ بیویوں میں سے کوئی کافروں کے پاس چلی جائے فَعَاقَبْتُمْ (الممتحنة: (۱۲) وَالْعَقْبُ مَا (اور وہ خرچ نہ دیں ) تو تم بھی اُن سے ویسا ہی سلوک کرو۔ (فَعَاقِبُوهُمْ، عَقَبَ سے ہے۔ ) اور عقب وہ يُؤَدِّي الْمُسْلِمُوْنَ إِلَى مَنْ هَاجَرَتِ خرچ ہے جو مسلمان کافروں میں سے اُس شخص کو دیتے امْرَأَتُهُ مِنَ الْكُفَّارِ فَأَمَرَ أَنْ يُعْطَى تھے جس کی بیوی (مسلمان ہو کر اور ) ہجرت کر کے مَنْ ذَهَبَ لَهُ زَوْجٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ (مدینہ) آجاتی تو اللہ تعالی نے حکم دیا کہ جس مسلمان مَا أَنْفَقَ مِنْ صَدَاقِ نِسَاءِ الْكُفَّارِ کی بیوی ( مرتد ہو کر مکہ ) چلی جائے اُس مسلمان کو وہ اللَّائِي هَاجَرْنَ وَمَا نَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ خرچ دے دیا جائے جو کافروں کی اُن عورتوں کا مہر الْمُهَاجِرَاتِ ارْتَدَّتْ بَعْدَ إِيْمَانِهَا وَ بَلَغَنَا ہے جنہوں نے ہجرت کر لی ہے اور کسی مہاجر عورت کا أَنَّ أَبَا بَصِيْرِ بْنَ أَسِيدِ الثَّقَفِيَّ قَدِمَ ہمیں علم نہیں کہ وہ ایمان لانے کے بعد مرتد ہوئی ہو عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا اور ہمیں یہ خبر پنچی ہے کہ ابو بصیر بن اسید ثقفی نبی ہے مُهَاجِرًا فِي الْمُدَّةِ فَكَتَبَ الْأَخْنَسُ بْنُ کے پاس مسلمان ہو کر مدت صلح میں ہجرت کر کے آیا شُرَيْقٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم تو اس بن شریق نے نبی صلی الہ علیہ وسلم کو کھا اور آپ سے ابو بصیر کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ پھر یہی يَسْأَلُهُ أَبَا بَصِيرٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ۔ حدیث بیان کی (جس کا ذکر او پر گذر چکا ہے۔) اطرافه ۲۷۱۳ ، ۱۱۸۲ ، ٤٨۹۱، ٥٢٨٨، ٧٢١٤۔ صلى الله تشريح : الشَّرُوطُ فِي الْجِهَادِ وَالْمُصَالَحَةُ مَعَ اَهْلِ الْحَرْبِ وَكِتَابَةُ الشَّرُوطِ: شرائط صلح خواہ زبانی گفتگو سے طے پائیں یا بذریعہ تحریر ان کی پابندی لازمی ہے جب تک کہ فریقین میں سے کوئی فریق یہ شرط نہیں توڑ تا حتی کہ شدید دشمنوں سے بھی جب شرائط صلح طے ہوں تو اُن میں وضاحت ہونی چاہیے اور اُن کی پابندی کرنی چاہیے۔ یہ جو کہا گیا ہے : اَلْحَرْبُ خُدُعَةٌ یعنی جنگ فریب ہے۔ اس سے بعض لوگ استدلال کرتے ہیں کہ دشمن سے دغا و فریب جائز ہے لیکن یہ استدلال درست نہیں۔ در حقیقت الْحَرْبُ خُدُعَةٌ سے وہ جنگی چالیں