صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 65 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 65

صحيح البخاری جلده ۶۵ ۵۴ - كتاب الشروط رَدَدْتَنِي إِلَيْهِمْ ثُمَّ أَنْجَانِي اللهُ مِنْهُمْ قسم اللہ نے آپ کی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔ آپ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلٌ نے تو مجھے ان کی طرف واپس بھیج دیا تھا۔ پھر اللہ نے أُمِّهِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ فَلَمَّا مجھے ان سے نجات دلوائی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اس کی سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ ماں کا بھلا ہو یہ تو لڑائی پیدا کرنے والا ہے۔ کاش کوئی اس کو سنبھالے ۔ جب اُس نے یہ سناوہ سمجھ گیا کہ آپ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى سِيْفَ الْبَحْرِ قَالَ اس کو ضرور ان کے پاس لوٹا دیں گے، وہاں سے نکل کر وَيَنْفَلِتُ مِنْهُمْ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلٍ سمندر کے کنارے چلا آیا۔ زہری نے کہا: ابو جندل بن فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ فَجَعَلَ لَا يَخْرُجُ سہیل بھی اُن سے چھوٹ کر ابو بصیر سے آملا۔ پھر قریش مِنْ قُرَيْشٍ رَجُلٌ قَدْ أَسْلَمَ إِلَّا لَحِقَ میں سے جو شخص بھی ایسا نکلتا جو مسلمان ہو چکا ہوتا وہ بِأَبِي بَصِيرٍ حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ ابو بصیر سے جاملتا۔ یہاں تک کہ ایسے آدمیوں کا ایک عِصَابَةٌ فَوَاللَّهِ مَا يَسْمَعُوْنَ بِعِيْرٍ جتھا اکٹھا ہو گیا۔ پھر اللہ کی قسم! جس قافلہ کو سن پاتے کہ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ إِلَى الشَّامِ إِلَّا قريش کا ( مال لے کر ) شام کی طرف نکلا ہے تو وہ اُس اعْتَرَضُوا لَهَا فَقَتَلُوهُمْ وَأَخَذُوا سے ضرور ہی چھیڑ چھاڑ کرتے اور اُن کو مارتے اور اُن کا مال لوٹ لیتے۔ آخر قریش نے تنگ آکر نبی ﷺ کو أَمْوَالَهُمْ فَأَرْسَلَتْ قُرَيْشَ إِلَى النَّبي اللہ کی قسماور رشتہ نام کا واسط دے کر کہلا بھیجا کہ آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنَاشِدُهُ اللَّهَ ابو بصیر کو و ضرور بلالیں اور پھر جو بھی آپ کے پاس آئے صلى الله علی نے وَالرَّحِمَ لَمَّا لَمَّا أَرْسَلَ فَمَنْ أَتَاهُ فَهُوَ آمِنْ وہ ہماری طرف سے امن میں ہے۔ تب نبی ہے فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اُن کو بلا لیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی: اور یہ خدا إِلَيْهِمْ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: وَهُوَ الَّذِي ہی ہے جس نے اُن کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ ہاتھوں کو اُن سے مکہ کی وادی میں روک دیا، بعد اس کے کہ اس نے تمہیں (حالات کے مطابق ) اُن پر فتح عطا عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ فرمادی تھے ۔۔۔۔ جب وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اپنے أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ حَتَّى بَلَغَ الْحَمِيَّةَ ولوں میں غیرت کا یعنی جاہلانہ غیرت کا مسئلہ بنا بیٹھے۔ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ (الفتح : ٢٥-٢٧) اُن کی حمیت جاہلیہ کا یہ حال تھا کہ انہوں نے نہ تو اقرار وَكَانَتْ حَمِيَّتُهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُقِرُّوا أَنَّهُ کیا کہ آنحضرت ﷺ اللہ کے نبی ہیں اور نہ بِسمِ اللهِ