صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 64
صحيح البخاری جلده ۶۴ ۵۴ - كتاب الشروط الشِّرْكِ فَتَزَوَّجَ إِحْدَاهُمَا مُعَاوِيَةُ بْنُ اگر تم ان سے شادی کر لو تو تم پر کوئی اعتراض نہیں اور أَبِي سُفْيَانَ وَالْأُخْرَى صَفْوَانُ بْنُ کا فر عورتوں کے ننگ و ناموس کو قبضہ میں نہ رکھو۔اس پر أُمَيَّةَ ثُمَّ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عمر نے اُسی دن اپنی اُن دو عورتوں کو طلاق دے دی جو مشرکہ تھیں۔اُن میں سے ایک سے تو معاویہ بن وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيْرٍ ابی سفیان نے شادی کر لی اور دوسری سے صفوان بن رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ مُسْلِمٌ فَأَرْسَلُوْا امیہ نے۔پھر نبی ﷺ مدینہ واپس آئے۔آپ کے فِي طَلَبِهِ رَجُلَيْنِ فَقَالُوا الْعَهْدَ الَّذِي پاس قریش میں سے ایک شخص ابوبصیر آیا اور وہ مسلمان جَعَلْتَ لَنَا فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ ہو چکا تھا۔اہل مکہ نے اُن کی تلاش کے لئے قریش میں فَخَرَجَا بِهِ حَتَّى بَلَغَا ذَا الْحُلَيْفَةِ سے دو آدمی بھیجے۔انہوں نے آکر کہا: اس عہد کی پابندی فَتَزَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَّهُمْ فَقَالَ أَبُو کیجئے جو آپ نے ہم سے کیا ہے۔تب آپ نے ابو بصیر بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى کو اُن دو آدمیوں کے حوالہ کر دیا۔وہ اُس کو لے کر چلے سَيْفَكَ هَذَا يَا فُلَانُ جَيْدًا فَاسْتَلَّهُ گئے۔یہاں تک کہ ذوالحلیفہ میں پہنچے اور وہاں اتر کر جو کھجوریں اُن کے پاس تھیں، کھانے لگے۔ابوبصیر نے الْآخَرُ فَقَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَجَيِّدٌ لَقَدْ اُن دو آدمیوں میں سے ایک سے کہا: اے فلاں ! خدا جَرَّبْتُ بِهِ ثُمَّ جَرَّبْتُ بِهِ ثُمَّ جَرَّبْتُ کی قسم! میں تمہاری تلوار عمدہ دیکھتا ہوں۔دوسرے نے فَقَالَ أَبُو بَصِيْرِ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْهِ فَأَمْكَنَهُ اُس کو کھینچ کر کہا: بے شک یہ تو خدا کی قسم! بہت ہی عمدہ مِنْهُ فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ وَفَرَّ الْآخَرُ حَتَّی ہے میں اس کو کئی بار آزما چکا ہوں۔ابوبصیر نے کہا: مجھے أَتَى الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ يَعْدُو دکھاؤ میں اسے دیکھوں۔پھر ابو بصیر نے اس سے پکڑ لی فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور اُس پر ایسی ضرب لگائی کہ وہیں ٹھنڈا ہوگیا اور دوسرا بھاگ کر مدینہ پہنچا اور پھر بھاگتا ہوا مسجد میں داخل وَسَلَّمَ حِيْنَ رَآهُ لَقَدْ رَأَى هَذَا ذُعْرًا ہو گیا۔رسول اللہ ﷺ نے جب اُس کو دیکھا تو فرمایا: فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اس نے ضرور کوئی ہیبت ناک واقعہ دیکھا ہے۔جب وہ وَسَلَّمَ قَالَ قُتِلَ وَاللَّهِ صَاحِبِي وَإِنِّي بي ﷺ کے پاس پہنچا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم ! میرا لَمَقْتُوْلٌ فَجَاءَ أَبُو بَصِيْرِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ ساتھی مارا گیا اور میں بھی ضرور مارا جاؤں گا۔اتنے میں اللَّهِ قَدْ وَاللَّهِ أَوْفَى اللَّهُ ذِمَّتَكَ قَدْ ابو بصیر بھی آپہنچے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی ! خدا کی