صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 63
صحيح البخارى جلده ۶۳ ۵۴- كتاب الشروط فَإِنَّكَ آتِيْهِ وَمُطَوّفٌ بِهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ کہتے تھے اللہ کی قسم ! اُن میں سے ایک شخص بھی نہ اُٹھا۔قَالَ عُمَرُ فَعَمِلْتُ لِذَلِكَ أَعْمَالاً قَالَ یہاں تک کہ آپ نے تین بار حکم دیا۔جب اُن میں سے فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ قَالَ کوئی نہ اٹھا تو آپ حضرت ام سلمہ کے پاس اندر گئے اور لوگوں کے رویہ سے آپ کو جو تکلیف پہنچی تھی اُن سے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اُس کا ذکر کیا۔حضرت ام سلمہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! لِأَصْحَابِهِ قُوْمُوا فَانْحَرُوْا ثُمَّ احْلِقُوْا آپ یہی چاہتے ہیں تو باہر جائیں اور ان میں سے کسی قَالَ فَوَاللَّهِ مَا قَامَ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى قَالَ سے کوئی بات نہ کریں اور اپنی قربانی کی اونٹنی ذبح کر دیں ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ اور اپنے حجام کو بلا لیں تا آپ کے بال اُتارے۔چنانچہ أَحَدٌ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَذَكَرَ لَهَا مَا آپ باہر آئے ، اُن میں سے کسی سے بات نہ کی اور لَقِيَ مِنَ النَّاسِ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا نَبِيَّ حضرت ام سلمہ کے مشورہ پر عمل کیا۔اپنی قربانی کو ذبح کیا اور حجام کو بلایا اور اُس نے آپ کے سر کے بال اللَّهِ أَتُحِبُّ ذَلِكَ اخْرُجْ ثُمَّ لَا تُكَلِّمْ صاف کر دیئے۔جب صحابہ نے یہ دیکھا تو وہ بھی اُٹھے أَحَدًا مِنْهُمْ كَلِمَةً حَتَّى تَنْحَرَ بُدْنَكَ اور انہوں نے قربانیاں ذبح کیں اور ایک دوسرے کے وَتَدْعُوَ حَالِقَكَ فَيَحْلِقَكَ فَخَرَجَ فَلَمْ سرمونڈنے لگے۔یہاں تک کہ قریب تھا کہ اثر دہام کی يُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ حَتَّی فَعَلَ ذَلِكَ نَحَرَ وجہ سے وہ ایک دوسرے کو مار ڈالتے۔پھر اس کے بعد بُدْنَهُ وَدَعَا حَالِقَهُ فَحَلَقَهُ فَلَمَّا رَأَوْا چند مومن عورتیں آپ کے پاس آئیں اور اللہ تعالیٰ نے ذَلِكَ قَامُوا فَتَحَرُوْا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ یہ وحی نازل کی: اے مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو اُن کو اچھی طرح آزما لیا کرو۔اللہ اُن کے ایمانوں کو خوب جانتا ہے۔لیکن اگر بَعْضًا عَمَّا ثُمَّ جَاءَهُ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ تم بھی جان لو کہ وہ مومن عورتیں ہیں تو اُن کو کافروں کی فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا طرف مت کو ٹاؤ۔نہ وہ اُن کا فروں کے لئے جائز ہیں إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنتُ مُهجرات اور نہ وہ کا فراُن کیلئے جائز ہیں اور چاہیے کہ کفار نے جو فَامْتَحِنُوْهُنَّ حَتَّى بَلَغَ بِعِصَمِ ) اُن عورتوں کے نکاح پر ) خرچ کیا ہو وہ اُن کو واپس الْكَوَافِرِ (الممتحنة: (۱۱) فَطَلَّقَ کردو ( اور جب تم اُن عورتوں کو کفار سے فارغ کروالو تو ) عُمَرُ يَوْمَئِذٍ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا لَهُ فِي اُن کے معاوضے ( یعنی مہر ) ادا کرنے کی صورت میں يَحْلِقُ بَعْضًا حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ