صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 62
صحيح البخاری جلده ۶۴ ۵۴ - كتاب الشروط قَالَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتَيْتُ بیت اللہ میں پہنچیں گے اور اُس کا طواف کریں گے؟ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ آپ نے فرمایا: بے شک، اور کیا میں نے تمہیں یہ بتایا أَلَسْتَ نَبِيَّ اللَّهِ حَقًّا قَالَ بَلَى قُلْتُ تھا کہ ہم بیت اللہ اسی سال پہنچیں گے؟ (حضرت عمر) کہتے تھے: میں نے کہا: نہیں۔ تو آپ نے فرمایا: تو پھر تم أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُونَا عَلَى الْبَاطِلِ بیت اللہ ضرور پہنچو گے اور اُس کا طواف بھی کرو گے۔ قَالَ بَلَى قُلْتُ فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي (حضرت عمر) کہتے تھے: یہ سن کر میں ابو بکر کے پاس آیا دِيْنِنَا إِذَا قَالَ إِنِّي رَسُولُ اللهِ وَلَسْتُ اور میں نے کہا: ابوبکڑا کیا حقیقت میں آنحضرت لیے أَعْصِيْهِ وَهُوَ نَاصِرِي قُلْتُ أَوَلَيْسَ اللہ کے نبی نہیں ہیں ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ میں نے كُنتَ تُحَدِّثْنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ کیا کیا ہم حق پر نہیں ہیںاور ہمارا دشن باطل پر انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ میں نے کہا: ہم اپنے دین سے متعلق الله فَتَطُوْفُ بِهِ قَالَ بَلَى فَأَخْبَرْتُكَ أَنَّا ذلت آمیز شرط کیوں قبول کریں۔ (اُس وقت ابو بکر ) نَأْتِيهِ الْعَامَ قَالَ قُلْتُ لَا لَا قَالَ فَإِنَّكَ آتِيْهِ نے کہا: او مرد خدا! بے شک آنحضرت ﷺ اللہ کے وَمُطَّوِفٌ بِهِ قَالَ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رسول ہیں اور رسول اپنے رب کی نافرمانی نہیں کیا کرتا فَقُلْتُ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَيْسَ هَذَا نَبِيَّ اللهِ اور اللہ ضرور اُن کی مدد کرے گا۔ آپ کے لیے فرمودہ حَقًّا قَالَ بَلَى قُلْتُ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ معاہدے کو مضبوطی سے تھامے رہو۔ رہو۔ اللہ کی قسم ! آپ حق پر ہیں۔ میں نے کہا: کیا آپ ہم سے نہیں کہتے وَعَدُونَا عَلَى الْبَاطِلِ قَالَ بَلَى قُلْتُ ہیں۔ طواف تھے کہ ہم ضرور بیت اللہ میں پہنچیں گے اور اُس کا فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا إِذَا قَالَ أَيُّهَا کریں گے۔ (ابوبکر نے) کہا: بے شک۔ کیا آپ نے الرَّجُلُ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تم کو یہ بھی بتایا تھا کہ تم اسی سال وہاں پہنچو گے۔ میں وَسَلَّمَ وَلَيْسَ يَعْصِي رَبَّهُ وَهُوَ نَاصِرُهُ نے کہا: نہیں۔ (ابوبکر نے) کہا: پھر تم ضرور وہاں پہنچو فَاسْتَمْسِكْ بِغَرْزِهِ فَوَاللَّهِ إِنَّهُ عَلَى گے اور اس کا طواف کرو گے ۔ زہری نے کہا: حضرت عمر کہتے تھے: میں نے اس غلطی کی وجہ سے بطور کفارہ کئی الْحَقِّ قُلْتُ أَلَيْسَ كَانَ يُحَدِّثُنَا أَنَّا (نیک) عمل کئے، کہتے تھے: جب آپ اس تحریر کے سَنَأْتِي الْبَيْتَ وَنَطُوْفُ بِهِ قَالَ بَلَى قضیہ سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ أَفَأَخْبَرَكَ أَنَّكَ تَأْتِيهِ الْعَامَ قُلْتُ لَا قَالَ سے فرمایا: اُٹھو اپنے اونٹوں کو ذبح کرو اور پھر سر منڈواؤ۔