صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 61
صحيح البخاری جلده 11 ۵۴ - كتاب الشروط وَلَكِنْ ذَلِكَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَكَتَبَ لڑکھڑاتے ہوئے آئے اور وہ مکہ کے نچلے حصہ کی طرف فَقَالَ سُهَيْلٌ وَعَلَى أَنَّهُ لَا يَأْتِيْكَ مِنَّا سے نکل کر آئے تھے اور آکر انہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے درمیان ڈال دیا۔ سہیل نے کہا: محمد ! یہ وہ رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِيْنِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ پہلا شخص ہے جس کا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ اس کو إِلَيْنَا قَالَ الْمُسْلِمُوْنَ سُبْحَانَ اللَّهِ مجھے واپس کر دیں ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ابھی تو ہم یہ تحریر كَيْفَ يُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِيْنَ وَقَدْ جَاءَ نہیں لکھ چکے سہیل نے کہا پھر تو میں اللہ کی قسم! آپ پر بھی کبھی صلح نہیں کروں گا۔ نبی ﷺ نے مُسْلِمًا فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ سے کسی بات پر بھی کہ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو يَرْسُفُ فرمایا: پھر میری خاطر اس کی اجازت دے دے۔ اُس صلى الله فِي قُيُوْدِهِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ أَسْفَلِ نے کہا: میں تو آپ کی خاطر اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ آپ نے فرمایا: نہیں یہ ضرور کرو۔ اُس نے کہا: میں تو مَكَّةَ حَتَّى رَمَى بِنَفْسِهِ بَيْنَ أَظْهُرِ یہ نہیں کروں گا لیکر نے کہا: ہم نے آپ کی خاطر اس الْمُسْلِمِيْنَ فَقَالَ سُهَيْلٌ هَذَا يَا مُحَمَّدُ کی اجازت دے دی ( مگر سہیل نہ مانا رسہیل نہ مانا۔ ابو جندل نے أَوَّلُ مَنْ أَقَاضِيْكَ عَلَيْهِ أَنْ تَرُدَّهُ إِلَيَّ کہا: اے مسلمانوں کی جماعت! کیا میں مشرکوں کے فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا حوالے کیا جاؤں گا، حالانکہ میں مسلمان ہو کر آیا ہوں ۔ لَمْ نَقْضِ الْكِتَابَ بَعْدُ قَالَ فَوَاللَّهِ إِذَا کہا: کیا تم اتم نہیں دیکھتے جو مصائب میں جھیل چکا ہوں۔ ابو جندل کو اللہ کی راہ میں فی الحقیقت سخت دُکھ اُٹھانا پڑا لَمْ أَصَالِحْكَ عَلَى شَيْءٍ أَبَدًا قَالَ تھا۔ (زہری نے ) کہا: حضرت عمر بن خطاب کہتے تھے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجِزْهُ لِي کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا: کیا آپ قَالَ مَا أَنَا بِمُجِيْزِهِ لَكَ قَالَ بَلَى فَافْعَلْ سچ مچ اللہ کے نبی نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ قَالَ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ قَالَ مِكْرَةٌ بَلْ قَدْ میں نے کہا: کیا ہم حق پر نہیں اور ہمارا دشمن باطل پر؟ أَجَرْنَاهُ لَكَ قَالَ أَبُو جَنْدَلٍ أَيْ مَعْشَرَ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ میں نے عرض کیا: تو پھر ہم الْمُسْلِمِينَ أَرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ اپنے دین سے متعلق ذلت آمیز شرطیں کیوں مائیں؟ آپ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اُس کی جِئْتُ مُسْلِمًا أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ لَقِيْتُ نافرمانی نہیں کروں گا۔ وہ میری مدد کرے گا۔ میں نے وَكَانَ قَدْ عُذِّبَ عَذَابًا شَدِيدًا فِي اللهِ کہا: کیا آپ ہم سے نہیں کہتے تھے کہ ہم عنقریب