صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 60 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 60

صحيح البخاری جلده ۶۰ ۵۴ - كتاب الشروط بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ فَقَالَ خدا کی قسم! میں رحمن کو نہیں جانتا کہ کون ہے؟ مناسب سُهَيْلٌ أَمَّا الرَّحْمَنُ فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي یہ ہے کہ یوں لکھو : بِاسْمِكَ اللهُمَّ جس طرح تم پہلے لکھوایا کرتے تھے، مسلمانوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم یہ نہیں لکھیں گے۔بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ہی مَا هِيَ وَلَكِن اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ كَمَا كُنْتَ تَكْتُبُ فَقَالَ لکھیں گے نبی ﷺ نے فرمایا کھو بِاسْمِكَ اللهُم الْمُسْلِمُونَ وَاللَّهِ لَا نَكْتُبُهَا إِلَّا پھر آپ نے لکھوایا: یہ وہ شرطیں ہیں جن پر محمد رسول اللہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ فَقَالَ نے صلح کا فیصلہ کیا ہے۔سہیل نے کہا: بخدا! اگر ہم النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ جانتے کہ آپ رسول اللہ ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ سے بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ ثُمَّ قَالَ هَذَا مَا کبھی نہ روکتے اور نہ آپ سے لڑتے لیکن یوں لکھو: محمد بن عبد اللہ۔نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ حقیقت میں اللہ کا رسول ہی ہوں گو تم مجھے جھٹلاتے ہو۔سُهَيْلٌ وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ محمد بن عبد اللہ ہی لکھو۔زہری کہتے ہیں کہ یہ اس لئے کیا رَسُولُ اللهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ کہ آپ فرما چکے تھے: وہ جو بات بھی مجھ سے ایسی وَلَا قَاتَلْنَاكَ وَلَكِنِ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ چاہیں گے جس میں اُن کی طرف سے الہی حرمات کی تعظیم عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہوگی تو میں اُن کی وہ بات (خوشی سے) منظور کرلوں گا۔نبی ﷺ نے پھر یہ لکھنے کیلئے فرمایا: تم ہمیں بیت اللہ میں وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ وَإِنْ جانے دو تاکہ ہم اس کا طواف کریں۔سہیل نے کہا: كَذَّبْتُمُونِي اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ خدا کی قسم کہیں عرب یہ چرچا نہ کریں کہ ہم سے یہ جبراً ! قَالَ الزُّهْرِيُّ وَذَلِكَ لِقَوْلِهِ لَا يَسْأَلُونَنِي منوایا گیا ہے لیکن یہ آئندہ سال ہوگا۔چنانچہ یہی لکھا۔خُطَّةٌ يُعَظِمُوْنَ فِيْهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا پھر سہیل نے کہا اور ہم میں سے جو شخص بھی خواہ وہ آپ أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله کے دین پر ہی ہو آپ کے پاس آئے تو آپ اسے ہماری طرف واپس کر دیں گے۔مسلمان بول اُٹھے : عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ تُخَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سبحان اللہ! مشرکوں کے پاس وہ کیونکر لوٹایا جائے گا؟ الْبَيْتِ فَنَطُوفَ بِهِ فَقَالَ سُهَيْلٌ وَاللهِ جبکہ وہ مسلمان ہو کر آیا ہے۔ابھی وہ انہی باتوں میں تھے لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَا أُخِذْنَا ضُعْطَةً که حضرت ابو جندل بن سہیل بن عمرو اپنی زنجیروں میں