صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 59
صحيح البخاری جلده ۵۹ ۵۴ - كتاب الشروط فَابْعَثُوْهَا لَهُ فَبُعِثَتْ لَهُ وَاسْتَقْبَلَهُ النَّاسُ آپ کے صحابہ کو وہ (گھائی پر چڑھتے ہوئے نظر آیا تو يُلَبُّوْنَ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ سُبْحَانَ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ فلاں ہے اور وہ ایسی قوم اللَّهِ مَا يَنْبَغِي لِهَؤُلَاءِ أَنْ يُصَدُّوْا عَنِ سے ہے جو قربانی کے اونٹوں کی بہت تعظیم کرتے ہیں۔ الْبَيْتِ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ قَالَ اس لئے یہ قربانی کے اُونٹ اُس کے سامنے لے آؤ۔ چنانچہ وہ سامنے لائے گئے اور لوگوں نے لبیک پکارتے رَأَيْتُ الْبُدْنَ قَدْ قُلِدَتْ وَأُشْعِرَتْ فَمَا ہوئے اُس کا استقبال کیا۔ جب اُس نے یہ نظارہ دیکھا أَرَى أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ فَقَامَ رَجُلٌ تو کہا : سبحان اللہ ! اِن لوگوں کو تو بیت اللہ سے روکنا نہیں مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصٍ فَقَالَ چاہیے۔ پھر جب وہ اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹا تو اُس دَعُوْنِي آتِهِ فَقَالُوا ائْتِهِ فَلَمَّا أَشْرَفَ نے کہا: میں نے تو قربانی کے اونٹ دیکھتے ہیں جن کی گردنوں میں ہار ڈالے ہوئے ہیں اور اُن کے کوہان عَلَيْهِمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ چیرے ہوئے ہیں۔ میں مناسب نہیں سمجھتا کہ وہ بیت اللہ وَسَلَّمَ هَذَا مِكْرَةٌ وَهُوَ رَجُلٌ فَاجِرٌ سے روکے جائیں۔ یہ سن کر اُن میں سے ایک شخص کھڑا فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہوا جسے مکر ز بن حفص کہتے تھے۔ اُس نے کہا: مجھے اُس وَسَلَّمَ فَبَيْنَمَا هُوَ يُكَلِّمُهُ إِذْ جَاءَ سُهَيْلُ کے پاس جانے دو۔ انہوں نے کہا: جاؤ۔ جب وہ گھائی صلى الله ملرز ابْنُ عَمْرٍو قَالَ مَعْمَرٌ فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ پر چڑھتے ہوئے نظر آیا تو بی اے نے فرمایا یہ کر ر ہے صلى الله جو فاجر شخص ہے ۔ وہ آکر نبی ﷺ سے باتیں کر ۔ کرنے لگا۔ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ لَمَّا جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ ابھی وہ آپ سے باتیں کر ہی رہا تھا کہ سہیل بن عمرو عَمْرٍو قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آگیا۔ معمر کہتے ہیں: ایوب نے عکرمہ سے روایت وَسَلَّمَ قَدْ سَهُلَ لَكُمْ مِنْ أَمْرِكُمْ ۔ قَالَ کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ جب سہیل بن عمرو آیا تو نبی نے فرمایا : اب تمہارا کام آسان ہو گیا۔ معمر کہتے مَعْمَرٌ قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيْثِهِ فَجَاءَ ہیں: زہری نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ سہیل بن عمرو سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ هَاتِ اكْتُبْ آیا تو اُس نے کہا: لائیے میں اپنے اور تمہارے درمیان بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابًا فَدَعَا النَّبِيُّ الله ایک تحریر لکھ دوں ۔ نبی ﷺ نے کاتب کو بلایا اور فرمایا: الْكَاتِبَ فَقَالَ النَّبِيُّ اكْتُبْ } {ص } بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سہیل نے کہا: حیح لفظ الكتب فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۴۰۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔