صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 58 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 58

صحيح البخارى جلده ۵۸ ۵۴ - كتاب الشروط خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ وَمَا يُحِدُوْنَ اور بدن پر (بطور تبرک ) مل لیتا اور جب کبھی آپ انہیں إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَى کوئی حکم دیتے تو آپ کا حکم بجالانے کے لئے ایک أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَيْ قَوْمِ وَاللَّهِ لَقَدْ دوسرے سے آگے بڑھ کر لپکتے اور جب آپ وضو کرتے تو قریب ہوتا کہ وضو کے پانی کے تبرک پر لڑ پڑیں اور وَفَدْتُ عَلَى الْمُلُوكِ وَوَفَدْتُ عَلَى جب وہ ان کے پاس بات کرتے تو اپنی آوازوں کو دھیما قَيْصَرَ وَكِسْرَى وَالنَّجَاشِي وَاللهِ إِنْ کر لیتے اور صحابہ آپ کی عظمت کی وجہ سے آپ کی رَأَيْتُ مَلِيْكًا قَطُّ يُعَظِمُهُ أَصْحَابُهُ طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھتے تھے۔پھر عروہ اپنے ساتھیوں مَا يُعَظِمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله کی طرف لوٹ گیا۔اُن سے کہا: اے میری قوم! بخدا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدًا وَاللَّهِ إِنْ يَتَنَخَّمُ میں تو بادشاہوں کے پاس بھی جاچکا ہوں۔قیصر وکسرٹی کے پاس بھی گیا اور نجاشی کے پاس بھی گیا۔بخدا میں نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِ رَجُلٍ مِنْهُمْ نے بھی کوئی بادشاہ نہیں دیکھا جس کے ساتھی اُس کی وہ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ وَإِذَا تعظیم کرتے ہوں جو تعظیم محمد(ﷺ) کے ساتھی آپ کی أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوْا أَمْرَهُ وَإِذَا تَوَضَّأَ کرتے ہیں اور اللہ کی قسم ! جب وہ ( ﷺ ) تھوکتے ہیں كَادُوا يَقْتَتِلُوْنَ عَلَى وَضُوْئِهِ وَإِذَا تو اُن کے متبعین میں سے کوئی نہ کوئی اُس کو اپنے ہاتھ تَكَلَّمُوْا خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ میں لے لیتا اور اُسے اپنے منہ اور بدن پر (بطور تبرک) مل لیتا ہے اور جب وہ اُن کو حکم دیتے تو وہ حکم بجالانے وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ کیلئے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے لپکتے ہیں اور وَإِنَّهُ قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ خُطَّةَ رُشْدِ جب وہ وضو کرتے تو قریب ہوتا ہے کہ وہ ( یعنی صحابہ) فَاقْبَلُوْهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ وضو کے پانی پر آپس میں لڑ پڑیں اور جب وہ کوئی بات دَعُونِي آتِيْهِ فَقَالُوا الْتِهِ فَلَمَّا کرتے ہیں تو وہ اُن کے پاس اپنی آوازیں پست کر لیتے أَشْرَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہیں اور اُن کی عظمت کی وجہ سے اُن کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے اور بات یہ ہے کہ اُس نے تمہارے سامنے وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ تمہارے فائدہ کی بات پیش کی ہے۔تم اُس کو مان لو، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا فُلَانٌ تو بنی کنانہ میں سے ایک شخص بولا کہ مجھے اس کے پاس وَهُوَ مِنْ قَوْمٍ يُعَظِمُوْنَ الْبُدْنَ جانے دو۔انہوں نے کہا: جاؤ۔جب نبی ﷺ اور