صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 57 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 57

صحيح البخاری جلده ۵۷ ۵۴ - كتاب الشروط قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى الله بھاگ جائیں گے اور آپ کو چھوڑ دیں گے؟ اس پر عروہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوبکر۔ عروہ نے الْمِغْفَرُ فَكُلَّمَا أَهْوَى عُرْوَةُ بِيَدِهِ إِلَى کہا: دیکھو اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری لِحْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جان ہے اگر تمہارا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتا جس کا میں نے ابھی تک تمہیں بدلہ نہیں دیا تو میں ( اس کا ) ضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ وَقَالَ لَهُ أَخِرْ تمہیں جواب دیتا۔ عروہ نے یہ کہا: اور نبی ﷺ سے يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ باتیں شروع کر دیں اور جب وہ کوئی بات کرتا تو آپ کی صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ فَقَالَ داڑھی کو ہاتھ لگا تا اور حضرت مغیرہ بن شعبہ نبی ہے مَنْ هَذَا قَالَ الْمُغِيْرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ کے پاس تلوار لئے خود پہنے کھڑے تھے۔ جب کبھی عروہ صلى الله عروسة أَيْ غُدَرُ أَلَسْتُ أَسْعَى فِي غَدْرَتِكَ اپنے ہاتھ کو ہی اس کی داڑھی کی طرف بڑھاتا تو حضرت مغیرہ اُس کے ہاتھ کو تلوار کی میان کی نوک لگا صلى الله وَكَانَ الْمُغِيْرَةُ صَحِبَ قَوْمًا فِي کر کہتے : رسول اللہ ﷺ کی داڑھی سے اپنا ہاتھ پیچھے الْجَاهِلِيَّةِ فَقَتَلَهُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ ثُمَّ رکھ۔ آخر عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا: یہ کون ہے؟ جَاءَ فَأَسْلَمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ (انہوں نے) کہا: مغیرہ بن شعبہ۔(عروہ نے) کہا: اے وَسَلَّمَ أَمَّا الْإِسْلَامَ فَأَقْبَلُ وَأَمَّا الْمَالَ را باز ! کیا میں ابھی تک تیری دغا بازی کا خمیازہ نہیں بھگت رہا۔ کوشش میں ہوں کہ (کسی طرح ) اس کا تدارک فَلَسْتُ مِنْهُ فِي شَيْءٍ ثُمَّ إِنَّ عُرْوَةَ ہو اور مغیرہ زمانہ جاہلیت میں (بنو ثقیف کے ) کچھ لوگوں جَعَلَ يَرْمُقُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ کے ساتھ سفر میں گئے اور مغیرہ نے انہیں قتل کر دیا اور ان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنَيْهِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا تَنَخَّمَ کے مال لے لئے تھے۔ پھر آکر مسلمان ہو گئے؛ اس پر رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی ﷺ نے فرمایا: تمہارا اسلام تو میں قبول کرتا ہوں۔ لیکن جو مال ہے میرا اُس سے کچھ بھی واسطہ نہیں۔ پھر نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عروہ نبی ﷺ کے صحابہ کو ترچھی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ وَإِذَا أَمَرَهُمُ عروہ بن زبیر ) کہتے تھے اللہ کی تم انی اے صلى الله عليه جب ابْتَدَرُوْا أَمْرَهُ وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا بھی کوئی تھوک تھوکتے تو آپ کا تھوک اُن (صحابہ) میں يَقْتَتِلُوْنَ عَلَى وَضُوْئِهِ وَإِذَا تَكَلَّمُوا سے کوئی نہ کوئی اپنی تھیلی پر لے لیتا اور اُسے اپنے منہ