صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 56
صحيح البخاری جلده ۵۶ ۵۴ - كتاب الشروط قَالَ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنِّي اسْتَنْفَرْتُ میری قوم! کیا تم (میرے لئے ) ایسے نہیں جیسے باپ؟ أَهْلَ عُكَاظَ فَلَمَّا بَلَّحُوْا عَلَيَّ جِئْتُكُمْ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ۔ (عروہ نے) کہا: کیا میں بِأَهْلِي وَوَلَدِي وَمَنْ أَطَاعَنِي قَالُوا (تمہارے لئے ایسا خیرخواہ نہیں جیسے بیٹا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ عروہ نے کہا: تو کیا تم مجھ پر بَلَى قَالَ فَإِنَّ هَذَا قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ کوئی شبہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کو نے کہا: نہیں۔ عروہ نے کہا: خُطَّةَ رُشْدِ اقْبَلُوهَا وَدَعُونِي آتِهِ قَالُوْا کیا تم جانتے نہیں کہ میں نے عکاظ والوں کو جنگ میں ائْتِهِ فَأَتَاهُ فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى الله تمہاری مدد کے لئے ترغیب دی تھی ؟ جب انہوں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میری بات نہ مانی تو میں اپنے بال بچوں، اپنے خاندان وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ قَوْلِهِ لِبُدَيْلٍ فَقَالَ کے لوگوں اور ان کو جنہوں نے میرا کہ مانا تھا، ساتھ لے کر تمہارے پاس آ گیا تھا۔ انہوں نے کہا: بے شک ۔ عُرْوَةُ عِنْدَ ذَلِكَ أَيْ مُحَمَّدُ أَرَأَيْتَ إِنِ (عروہ نے) کہا: (اب سنو!) اس شخص (یعنی بدیل) نے اسْتَأْصَلْتَ أَمْرَ قَوْمِكَ هَلْ سَمِعْتَ حقیقت میں تمہاری بہتری کے لئے بھلائی کا راستہ پیش بِأَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ اجْتَاحَ أَهْلَهُ قَبْلَكَ کیا ہے۔ اسے ۔ اِسے مان لو اور مجھے محمد (ﷺ) کے پاس صلى الله عروسة وَإِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى فَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى جانے دو۔ انہوں نے کہا: آپ اُس کے پاس جائیں۔ وُجُوْهَا وَإِنِّي لَأَرَى أَشْوَابًا مِنَ النَّاسِ چنانچہ عروہ آپ کے خَلِيْقًا أَنْ يَفِرُّوا وَيَدَعُوكَ فَقَالَ لَهُ آپ کے پاس آئے اور نبی یا سے گفتگو صلى الله علومة۔ کرنے لگے۔ نبی ﷺ نے بدیل سے جو باتیں باتیں کی کی تھیں وہی باتیں عروہ سے بھی کیں۔ عروہ نے یہ باتیں سن کر کہا: أَبُو بَكْرٍ امْصُصْ بَطْرَ اللَّاتِ أَنَحْنُ محمد! بتاؤ تو سہی اگر تم نے اپنی قوم کو بالکل نابود کر دیا تو نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ فَقَالَ مَنْ ذَا قَالُوْا کیا تم نے عربوں میں سے کسی عرب کی نسبت سنا ہے أَبُو بَكْرٍ قَالَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ جس نے تم سے پہلے اپنے ہی لوگوں کو تباہ کر دیا ہو اور اگر لَوْ لَا يَذْ كَانَتْ لَكَ عِنْدِي لَمْ أَجْزِكَ دوسری بات ہو (یعنی قریش غالب ہوئے تو اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھیوں کے چہروں کو دیکھ رہا ہوں جو بِهَا لَأَجَبْتُكَ قَالَ وَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ ادھر اُدھر سے اکٹھے ہو گئے ہیں وہ بھاگ جائیں گے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُلَّمَا تَكَلَّمَ اور تمہیں چھوڑ دیں گے۔ یہ سن کرد یہ سن کر حضرت ابو بکر نے كَلِمَةً أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَالْمُغِيْرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ( عروہ بن مسعود سے) کہا:لات کی شرمگاہ چوس، کیا ہم