صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 55 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 55

صحيح البخاری جلده ۵۵ ۵۴ - كتاب الشروط صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَمْ نَجِئْ آئے ہیں اور قریش کو تو لڑائی نے کمزور کر دیا اور انہیں لِقِتَالِ أَحَدٍ وَلَكِنَّا جِئْنَا مُعْتَمِرِيْنَ وَإِنَّ نقصان پہنچایا ہے۔اگر وہ چاہیں تو میں اُن کے ساتھ قُرَيْشًا قَدْ نَهكَتْهُمُ الْحَرْبُ وَأَضَرَّتْ ایک مقررہ وقت کے لئے صلح کر لوں گا اور وہ میرے اور بِهِمْ فَإِنْ شَاءُوا مَا دَدْتُهُمْ مُدَّةً وَيُخَلُوا لوگوں کے درمیان دخل نہ دیں۔پس اگر میں غالب بَيْنِي وَبَيْنَ النَّاسِ فَإِنْ أَظْهَرْ فَإِنْ ہو جاؤں اور یہ لوگ اس ( دین ) میں داخل ہونا چاہیں جس میں اور لوگ داخل ہو رہے ہیں تو ایسا کر لیں ورنہ شَاءُوْا أَنْ يَدْخُلُوْا فِيْمَا دَخَلَ فِيْهِ پھر وہ (اس وقفہ میں ) اپنی کھوئی ہوئی طاقت تو دوبارہ النَّاسُ فَعَلُوْا وَإِلَّا فَقَدْ جَمُّوا وَإِنْ هُمْ حاصل کریں گے اور اگر وہ نہ مانیں تو پھر اسی ذات کی أَبَوْا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقَاتِلَنَّهُمْ تم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔میں اپنے عَلَى أَمْرِي هَذَا حَتَّى تَنْفَرِدَ سَالِفَتِي اس دین کی حفاظت کیلئے اُن کا مقابلہ ضرور کرتا رہوں گا وَلَيُنْفِذَنَّ اللَّهُ أَمْرَهُ فَقَالَ بُدَيْلٌ یہاں تک کہ میری گردن الگ ہو جائے اور اللہ اپنی سَأُبَلِّغُهُمْ مَـ مَا تَقُوْلُ قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّى بات ضرور پوری کر کے رہے گا۔بدیل نے کہا: جو آپ أَتَى قُرَيْشًا قَالَ إِنَّا جِئْنَاكُمْ مِنْ هَذَا کہتے ہیں میں انہیں پہنچادیتا ہوں۔( عروہ) نے کہا: وہ الرَّجُلِ وَسَمِعْنَاهُ يَقُوْلُ قَوْلًا فَإِنْ شِئْتُمْ چلے گئے اور قریش کے پاس پہنچے۔انہوں نے کہا: ہم أَنْ تَعْرِضَهُ عَلَيْكُمْ فَعَلْنَا فَقَالَ اُس شخص (یعنی آنحضرت ﷺ) کی طرف سے تمہارے سُفَهَاؤُهُمْ لَا حَاجَةَ لَنَا أَنْ تُخْبُرُونَا پاس آئے ہیں اور ہم نے اُس کو ایک بات کہتے سنا ہے اگر تم چاہو کہ ہم تمہارے سامنے وہ پیش کریں تو ہم پیش کر دیں۔اُن میں سے جو بیوقوف تھے، کہنے لگے : ہمیں ضرورت نہیں کہ تم اُس کی طرف سے ہمیں کوئی بات کہو، يَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَحَدَّثَهُمْ بِمَا قَالَ اور جو اُن میں سے اہل الرائے تھے انہوں نے کہا: اچھا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ کہو جو تم نے اس کو کہتے سنا۔(بدیل نے ) کہا: میں نے عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُوْدٍ فَقَالَ أَيْ قَوْمِ أَلَسْتُمْ اُس کو یہ کہتے سنا ہے۔اور جو باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بِالْوَالِدِ قَالُوا بَلَى قَالَ أَوَلَسْتُ بِالْوَلَدِ (بدیل سے) کی تھیں وہ انہوں نے اُن کو بتا دیں۔یہ سن قَالُوْا بَلَى قَالَ فَهَلْ تَتَّهِمُونِي قَالُوْا لَا کر عروہ بن مسعود کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: عَنْهُ بِشَيْءٍ وَقَالَ ذَوُو الرَّأْيِ مِنْهُمْ هَاتِ مَا سَمِعْتَهُ يَقُوْلُ قَالَ سَمِعْتُهُ