صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 54
صحيح البخارى جلده ۵۴ ۵۴ - كتاب الشروط يَسْأَلُونَنِي حُطَّةٌ يُعَظِمُوْنَ فِيْهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ قَالَ فَعَدَلَ عَنْهُمْ حَتَّى نَزَلَ الْقَصْوَاءُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ روکنے والے نے اس کو روک لیا ہے۔پھر آپ نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَلَاتِ الْقَصْوَاءُ وَمَا فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری ذَاكَ لَهَا بِخُلُقٍ وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِش جان ہے، جو بات بھی وہ مجھ سے ایسی چاہیں گے جس الْفِيْلِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا میں الہی حرمتوں کی تعظیم ہوگی میں اُن کی وہ بات ضرور قبول کرلوں گا۔پھر آپ نے اُس کو ڈانٹا اور وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔عروہ بن زبیر نے ) کہا : آپ مکہ والوں کی طرف سے ہٹ کر حدیبیہ کے پر لے کنارے ایک حوض کے پاس جا اُترے جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔لوگ اُس سے بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيْلِ الْمَاءِ پانی لیتے رہے۔ابھی دیر نہیں گذری تھی کہ لوگوں نے يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا فَلَمْ يُلَبَتْهُ النَّاسُ سب پانی کھینچ کر اسے خشک کر دیا۔بعد ازاں رسول اللہ حَتَّى نَزَحُوْهُ وَشُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ سے پیاس کی شکایت ہوئی تو آپ نے اپنے ترکش صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشُ فَانْتَزَعَ سے ایک تیر نکالا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اُس تیر کو اُس حوض سَهُما مِنْ كِنَانَتِهِ ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهُ میں گاڑ دیں۔بخدا جب تک وہ پانی پی پلا کر وہاں سے فِيْهِ فَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَجِيْشُ لَهُمْ بِالرِّي چلے نہیں آئے وہ برابر جوش مار مار کر انہیں پانی دیتارہا۔حَتَّى صَدَرُوا عَنْهُ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ لوگ اسی حالت میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی اپنی جَاءَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي نَفَرٍ قوم خزاعہ کے چند آدمیوں کو لے کر آ گیا اور اہل تہامہ میں سے یہ لوگ رسول اللہ علیہ کے خیر خواہ اور محرم راز تھے۔(بدیل نے ) کہا: میں کعب بن لوئی اور عامر بن لوئی کو چھوڑ آیا ہوں۔وہ حدیبیہ کے اُن بہتے چشموں پر وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ تِهَامَةَ فَقَالَ إِنِّي اُترے ہیں جن کے پانی ختم نہیں ہوئے۔اُن کے ساتھ تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُوَي وَعَامِرَ بْنَ بال بچے بھی ہیں اور وہ آپ کے ساتھ لڑنے پر آمادہ لُوَي نَزَلُوا أَعْدَادَ مِيَاهِ الْحُدَيْبِيَةِ ہیں اور آپ کو بیت اللہ کا طواف کرنے ) سے روکیں وَمَعَهُمُ الْعُوْذُ الْمَطَافِيْلُ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ گے۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم کسی سے وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ لڑنے کیلئے نہیں آئے بلکہ عمرہ کرنے کے ارادہ سے مِنْ قَوْمِهِ مِنْ خُزَاعَةَ وَكَانُوا عَيْبَةَ نُصْح رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ