صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 54 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 54

صحيح البخاری جلده ۵۴ ۵۴ - كتاب الشروط الْقَصْوَاءُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ روکنے والے نے اس کو روک لیا ہے۔ پھر آپ نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَلَاتِ الْقَصْوَاءُ وَمَا فرمایا: اُس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری ذَاكَ لَهَا بِخُلُقٍ وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ جان ہے، جو بات بھی وہ مجھ سے ایسی چاہیں گے جس الْفِيلِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا میں الہی حرمتوں کی تعظیم ہوگی میں اُن کی وہ بات ضرور يَسْأَلُوْنَنِي خُطَّةً يُعَظِمُوْنَ فِيْهَا حُرُمَاتِ ہوئی۔ (عروہ بن زبیر نے) کہا: آپ مکہ والوں کی طرف اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ قَالَ فَعَدَلَ عَنْهُمْ حَتَّى نَزَلَ قبول کرلوں گا۔ پھر آپ نے اُس کو ڈانٹا اور وہ اُم اُٹھ کھڑی سے ہٹ کر حدیبیہ کے پرلے کنارے ایک حوض کے پاس جا اُترے جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ لوگ اُس سے بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيْلِ الْمَاءِ پانی لیتے رہے۔ ابھی دیر نہیں گذری تھی کہ لوگوں نے يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا فَلَمْ يُلَبَثُهُ النَّاسُ سب پانی کھینچ کر اسے خشک کر دیا۔ بعد ازاں رسول اللہ حَتَّى نَزَحُوْهُ وَشُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ سے پیاس کی شکایت ہوئی تو آپ نے اپنے ترکش صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشُ فَانْتَزَعَ سے ایک تیز نکالا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اُس تیر کو اُس حوض سَهُمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهُ میں گاڑ دیں ۔ بخدا جب تک وہ پانی پی پلا کر وہاں سے فِيْهِ فَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَجِيْشُ لَهُمْ بِالرِّي چلے ہیں آئے وہ برابر جوش مار مار کر انہیں پانی دیتا رہا۔ حَتَّى صَدَرُوا عَنْهُ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ لوگ اسی حالت میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی اپنی قوم خزاعہ کے چند آدمیوں کو لے کر آگیا اور اہل تہامہ جَاءَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ خُزَاعَةَ وَكَانُوا عَيْبَةَ صلى الله میں سے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے خیر خواہ اور محرم راز تھے۔ (بدیل نے) کہا: میں کعب بن لوئی اور عامر بن لوئی نُصْحِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کو چھوڑ آیا ہوں۔ وہ حدیبیہ کے اُن بہتے چشموں پر وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ تِهَامَةَ فَقَالَ إِنِّي اُترے ہیں جن کے پانی ختم نہیں ہوئے۔ اُن کے ساتھ تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيِّ وَعَامِرَ بْنَ بال بچے بھی ہیں اور وہ آپ کے ساتھ لڑنے پر آمادہ لُغَيِّ نَزَلُوا أَعْدَادَ مِيَاهِ الْحُدَيْبِيَةِ ہیں اور آپ کو بیت اللہ ( کا طواف کرنے) سے روکیں وَمَعَهُمُ الْعُوْذُ الْمَطَافِيْلُ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ گے ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم کسی سے وَصَادُّوْكَ عَنِ الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ لڑنے کیلئے نہیں آئے بلکہ عمرہ کرنے کے ارادہ سے