صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 53 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 53

صحيح البخارى جلده ۵۳ ۵۴ - كتاب الشروط باب ١٥ الشُّرُوطُ فِي الْجِهَادِ وَالْمُصَالَحَةُ مَعَ أَهْلِ الْحَرْبِ وَكِتَابَةُ الشُّرُوطِ جہاد میں شرائط طے کرنے کا بیان اسی طرح لڑائی کرنے والوں سے صلح کرانے اور ( اُن سے ) شرطیں ( طے کر کے ) لکھنے کا بیان :۲۷۳۱ - ۲۷:۳۲: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ ۲۷۳۱-۲۷۳۲: عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے ابْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بتایا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ خبر دی۔انہوں نے کہا کہ زہری نے مجھے خبر دی۔انہوں قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنِ نے کہا : عروہ بن زبیر نے مسور بن مخرمہ اور مروان سے الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ يُصَدِّقُ روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔اُن میں سے ہر ایک كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثَ صَاحِبِهِ قَالَلا اپنے ساتھی کی بات کی تصدیق کرتا تھا۔ان دونوں نے کہا: جن دنوں حدیبیہ کی صلح ہوئی رسول اللہ علیہ ان خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ونوں (مکہ جانے کے لئے) نکلے۔جب راستے کا کچھ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَّةِ حَتَّى إِذَا كَانُوا حصہ طے ہوگیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: خالد بن ولید قریش بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله کے کچھ سوار لئے ہوئے بطور ہر اول مقام شمیم میں موجود عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ہے۔اس لئے دائیں طرف کا راستہ اختیار کرو۔بخدا بِالْغَمِيمِ فِي خَيْلٍ لِقُرَيْشٍ طَلِيْعَةً خالد کو اُن کی خبر بھی نہ ہوئی۔اچانک اُس کے سواروں فَخُذُوا ذَاتَ الْيَمِينِ فَوَاللَّهِ مَا شَعَرَ نے فوج کے گرد وغبار کو دیکھا تو وہ قریش کو آگاہ کرنے بِهِمْ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا هُمْ بِقَتَرَةِ الْجَيْشِ کے لئے جلدی سے گیا اور نبی ﷺ بھی چلتے رہے۔یہاں تک کہ جب آپ اُس گھائی میں پہنچے جہاں سے فَانْطَلَقَ يَرْكُضُ نَذِيرًا لِقُرَيْشٍ وَسَارَ مکہ میں اُترا کرتے ہیں۔آپ کی اونٹنی آپ کو لئے ہوئے النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا بیٹھ گئی۔لوگ اُس کو اُٹھانے کے لئے حل حل کے الفاظ كَانَ بِاللَّنِيَّةِ الَّتِي يُهْبَطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا کہنے لگے مگر وہ بیٹھی رہی۔لوگ کہنے لگے : قصواء اڑ بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ فَقَالَ النَّاسُ حَلْ حَلْ بیٹھی قصواء اڑ بیٹھی۔نبی ﷺ نے فرمایا: قصواء اڑ کر فَأَلَحَتْ فَقَالُوْا خَلَاتِ الْقَصْوَاءُ خَلَاتِ نہیں بیٹھی اور نہ یہ اس کی عادت ہے بلکہ ہاتھیوں کے