صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 52
صحيح البخاری جلده ۵۲ ۵۴- كتاب الشروط رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ بحالیکہ محمد (ﷺ) نے ہم کو وہاں ٹھہرایا تھا اور بِكَ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ خَيْبَرَ تَعْدُو ہمارے ساتھ ان زمینوں (میں بٹائی ) کا معاملہ کیا تھا بِكَ قَلُوْصُكَ لَيْلَةً بَعْدَ لَيْلَةٍ فَقَالَ اور ہم سے یہی شرط کی تھی ( کہ تم یہیں رہنا۔) حضرت اللہ صلی الله كَانَ ذَلِكَ هُزَيْلَةٌ مِنْ أَبِي الْقَاسِمِ عمر نے کہا: کیا تم یہ سمجھتے ہو، میں رسول الله قَالَ كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ فَأَجْلَاهُمْ علیہ وسلم کی بات بھول گیا ہوں ۔ ( آپ نے فرمایا تھا) عُمَرُ وَأَعْطَاهُمْ قِيْمَةَ مَا كَانَ لَهُمْ مِنَ کہ تمہارا کیا حال ہو گا جب خیبر سے تم نکالے جاؤ گے الثَّمَرِ مَالًا وَإِبِلًا وَعُرُوضًا مِنْ أَقْتَابِ اور تمہاری اونٹنی تمہیں راتوں کو لئے بھاگتی پھرے گی۔ اس نے کہا کہ ابو القاسم کی طرف سے یہ بات تو وَحِبَالٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ۔ دل لگی کے طور پر تھی ۔ حضرت عمر نے کہا: اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے ۔ آخر حضرت عمر نے اُن کو وہاں سے نکال دیا اور پیداوار میں اُن کا جو حصہ تھا، انہیں اس کی قیمت دے دی۔ کچھ نقد دیا اور کچھ اونٹ اور سامان یعنی پالان اور رسیاں وغیرہ دیئے ۔ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ حماد بن سلمہ نے بھی عبید اللہ سے اسے روایت کیا ہے۔ میرا أَحْسِبُهُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ خیال ہے کہ (مالک کی طرح) عبید اللہ نے نافع سے، نافع عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابن عمر سے، حضرت ابن عمر نے حضرت عمر سے، اخْتَصَرَهُ۔ حضرت عمر نے نبی ﷺ سے روایت کی ۔ مگر اس کو حماد نے (حضرت عمرؓ کا واسطہ ہٹا کر روایت کے سلسلہ کو مختصر کر دیا۔ ت ۔ إِذَا اشْتَرَطَ فِي الْمُزَارَعَةِ إِذَا شِئْتُ أَخْرَجْتُكَ : معاہدہ مزارعت میں مدت کی شریح تعین ضروری شرائط میں سے ماری گئی ہے، لیکن جنگی حالات کی وجہ سے یہودیان خیبر کے ساتھ مدت مزارعت غیر معین تھی۔ اس عدم تعین میں بھی یہ شرط مقدر تھی کہ جا رط مقدر تھی کہ جب تک ان کا معاملہ اور رویہ درست رہے گا یہ اراضیات ان کے پاس رہیں گی ورنہ ان سے لے لی جائیں گی۔ عنوان باب میں یہی تقدیری شرط نمایاں کی گئی ہے۔ اس تعلق میں كتاب المزارعة تشریح باب ۸ تا ۱۱ بھی دیکھئے۔