صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page vii
صحيح البخاری جلده iv فهرست باب ۱۵: إِذَا قَالَ أَرْضِى أَوْ بُسْتَانِى صَدَقَةٌ لِلَّهِ عَنْ اگر کوئی یوں کہے کہ میری زمین یا میرا باغ میری ماں کی طرف سے اللہ کی خاطر صدقہ ہے تو یہ جائز ہے ۱۰۴ أُمِّي فَهُوَ جَائِزٌ بَاب ١٦: إِذَا تَصَدَّقَ أَوْ وَقَفَ بَعْضَ مَالِهِ أَوْ بَعْضَ اگر کوئی اپنے مال میں سے کچھ حصہ یا اپنے غلام یا جانوروں رَقِيقِهِ أَوْ دَوَابِّهِ فَهُوَ جَائِزٌ میں سے کچھ حصہ صدقہ کر دے یا وقف کر دے تو یہ جائز ہے ۱۰۵ بَابِ : مَنْ تَصَدَّقَ إِلَى وَكِيْلِهِ ثُمَّ رَدَّ الْوَكَّيْلُ إِلَيْهِ جو صدقہ کر کے اپنے مختار کے سپر د کر دے اور پھر وہ مختار اس کو واپس کر دے تو یہ جائز ہے)۔1+7 بَاب ١٨: قَوْلُ اللهِ عَزَّوَجَلَّ وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا اللہ عزوجل کا فرمانا: جب تقسیم کے وقت رشتہ دار یتیم اور الْقُرْبى وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ مسکین آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دو۔۔۔۱۰۸ بَابِ ١٩: مَا يُسْتَحَبُّ لِمَنْ تُوُقِيَ فَجَاءَةً أَنْ ناگہاں فوت ہونے والے کی طرف سے خیرات کرنا يَّتَصَدَّقُوا عَنْهُ وَقَضَاءُ النُّذُوُرِ عَنِ الْمَيِّتِ مستحب ہے اور میت کی طرف سے نذریں پوری کرنا باب ۲۰: الْإِشْهَادُ فِي الْوَقْفِ وَالصَّدَقَةِ وقف کرنے اور صدقہ کرنے کے وقت گواہ ٹھہرانا بَاب ۲۱: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَاتُوا الْيَتْلَى أَمْوَالَهُمْ وَلَا الله تعالیٰ کا یہ فرمانا: تم یتیموں کو ان کے مال دے دو اور پاک مال کے بدلہ میں ناپاک مال نہ لو۔۔تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ باب :۲۲: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَابْتَلُوا الْيَتَى حَتَّى إِذَا اللہ تعالیٰ کا فرمانا: یتیموں کی آزمائش کرتے رہو اس بلَغُوا النكاح وقت تک کہ وہ شادی کی عمر کو پہنچ جائیں۔اپنی محنت کے موافق اس میں سے کھا سکتا ہے بَاب وَمَا لِلْوَصِيِّ أَنْ يُعْمَلَ فِى مَالِ الْيَتِيمِ وَمَا یتیم کے مال میں وصی ( تجارت اور ) محنت کر سکتا ہے اور يَأكُلُ مِنْهُ بَقَدْرِ عُمَالَتِهِ۔بَاب :۲۳: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے الْيَتَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ہیں وہ یقیناً اپنے بیٹوں میں آگ ہی بھرتے ہیں۔۔۔باب ۲۴ وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْيَتَى قُل اِصلاح (اللہ تعالی کا فرمانا: ) تجھ سے قیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہو کہ ان کی اصلاح بہت اچھا کام ہے۔لَهُمْ خَيْرٌ بَاب :۲۵: اِسْتِخْدَامُ الْيَتِيمِ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ إِذَا یتیم سے سفر اور حضر میں خدمت لینا جبکہ یہ اس کے لئے كَانَ صَلَاحًا لهُ بھلائی کا موجب ہو بَاب ٢٦ : إِذَا وَقَفَ أَرْضًا وَلَمْ يُبَيِّنِ الْحُدُودَ فَهُوَ اگر کوئی زمین وقف کرے اور اس کی حدیں کھول کر بیان جَائِزٌ وَكَذَلِكَ الصَّدَقَةُ 1+9 11+ ۱۱۴ 117 112 119 نہ کرے تو یہ ( وقف ) جائز ہوگا اور اسی طرح صدقہ بھی ۱۲۰ باب ۲۷: إِذَا وَقَفَ جَمَاعَةٌ أَرْضًا مُشَاعًا فَهُوَ اگر ایک جماعت مشتر کہ زمین (جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو ) جائز۔۔وقف کر دے تو یہ وقف جائز ہوگا ۱۲۳