صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 49
صحيح البخارى جلده ۴۹ ۵۴ - كتاب الشروط فَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ۔نے یہ آیت یوں پڑھی ہے: أَمَامَهُمْ مَلِكٌ بجائے وَرَاءَ هُمُ مَلِک کے۔) اطرافه ۷٤، ۷۸، ۱۲۲، ۲۲۶۷، ۳۲۷۸، ٣٤۰۰، ٣٤٠١، ٤٧٢٥، ٤٧٢٦ ، ٤٧٢٧، ٦٦٧٢، ٠٧٤٧٨ تشریح : الشَّرُوطُ مَعَ النَّاسِ بِالْقَوْلِ : حضرت موی ان کا واقعہ جو قرآن مجیدمیں مذکور ہے یہاں اس غرض سے بیان کیا گیا ہے کہ ایک امر شرط سے طے کیا گیا تھا اور اس کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے حضرت موسی ال کو حضرت خضر الف کی رفاقت اور فیضیابی سے محروم ہونا پڑا۔شرط کی یہ تعریف کی گئی ہے : مَا يَسْتَلْزِمُ نَفْيُهُ نَفْيَ أَمْرٍ آخَرَ غَيْرَ السَّبَبِ فتح البارى ، شرح كتاب الصلح بابا، جزء ۵ صفحه ۳۸۴) یعنی وہ بات جس کے نہ پائے جانے پر اس امر کی نفی ہو، جس کے لئے اسے شرط تھہرایا گیا ہے۔حضرت خضر علیہ السلام کی رفاقت کے لئے یہ شرط تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام صبر سے کام لیں گے مگر انہوں نے یہ شرط ملحوظ نہ رکھی۔اس لئے وہ رفاقت کے مستحق نہ ہوئے۔اس بیان کا ایک حصہ کتاب العلم باب ۱۶ روایت نمبر ۷۴ میں گذر چکا ہے۔اس واقعہ کی تفصیل و تشریح کے لئے دیکھئے: تفسیر کبیر- تفسير سورة الكهف آیات ۶۱ تا ۸۳ - جلد ۴ صفحه ۴۶۵ تا ۴۹۰ مصنفہ حضرت مصلح موعود و به۔في بَاب ١٣ : الشروط فِي الْوَلَاءِ آزاد ہونے والے غلام ولونڈی کے ترکہ کے بارے میں شرط لگانا ۲۷۲۹: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ حَدَّثَنَا :۲۷۲۹ اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مَالِكَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْنِي بَرِيْرَةُ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ سے فَقَالَتْ كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْع أَوَاقٍ روایت کی کہتی تھیں: بریرہ میرے پاس آئی، کہنے لگی کہ كُلّ عَامٍ أُوْقِيَّةٌ فَأَعِيْنِيْنِي فَقَالَتْ إِنْ میں نے اپنے مالکوں سے اپنی آزادی کے لئے تو اوقیہ أَحَبُّوْا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُوْنَ وَلَاؤُكِ ادا کر نے پر تحریری معاہدہ کر لیا ہے اور ہر سال میں ایک فَعَلْتُ فَذَهَبَتْ بَرِيْرَةُ إِلَى أَهْلِهَا اوقیہ ادا کروں گی۔اس لئے آپ میری مدد کریں۔فَقَالَتْ لَهُمْ فَأَبَوْا عَلَيْهَا فَجَاءَتْ مِنْ حضرت عائشہ نے کہا: اگر وہ (یعنی مالک) پسند کریں کہ عِنْدِهِمْ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میں ان کو ( کو اوقیہ ابھی ) نقد ادا کر دوں ، اس شرط پر کہ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَقَالَتْ إِنِّي عَرَضْتُ تمہارا ترکہ میرا ہوگا ؟ تو میں نقد دے دوں گی۔بریرہ