صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 48 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 48

صحيح البخارى جلده بَابِ ۱۲ : اَلشُّرُوْطُ مَعَ النَّاسِ بِالْقَوْلِ لوگوں سے زبانی شرطیں طے کرنا ۵۴ - كتاب الشروط ۲۷۲۸: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ :۲۷۲۸ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام مُوْسَى أَخْبَرَنَا هِشَامٌ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔ان کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے یعلی بن مسلم اور عمرو بن دینار نے أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ سعيد بن جبیر سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ان میں وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ سے ایک اپنے ساتھی سے کچھ زیادہ بیان کرتا تھا۔يَزِيْدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَغَيْرُهُمَا ( ابن جریج نے کہا:) مجھ سے یہ بات یعلی اور عمرو کے سوا اوروں نے بھی بیان کی۔( کہتے تھے ) میں نے ان کو قَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ إِنَّا لَعِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ نے کہا: ہم ( حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے عَنْهُمَا قَالَ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ پاس تھے کہ انہوں نے کہا: ابی بن کعب نے مجھ سے قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بین کیا، کہا کہ رسل اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا اللہ کے رسول موسی۔۔۔پھر آپ نے سارا واقعہ بیان کیا سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہوئے خود سنا۔انہوں مُوْسَى رَسُوْلُ اللَّهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ( جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے کہ خضر نے موسیٰ سے ) قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ استقلال مَعِيَ صَبْرًا (الكهف : ٧٦) كَانَتِ سے نہیں ٹھہر سکو گے۔پہلی بات بھول کر ہوئی اور الْأَوْلَى نِسْيَانًا وَالْوُسْطَى شَرْطًا درمیان کی بات شرعیہ تھی اور تیسری بات جان بوجھ کر وَالثَّالِثَةُ عَمْدًا قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي ہوئی۔(موسی نے ) کہا : جو میں بھول گیا اس پر میری گرفت نہ کریں اور میری غلطی کی وجہ سے مجھے بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ مشکلات میں نہ ڈالیں۔وہ دونوں ایک لڑکے سے أَمْرِى عُسُرًا (الكهف : ٧٤) لَقِيَا ملے تو خضر نے اس کو مار ڈالا۔دونوں آگے چلے اور علما فَقَتَلَهُ (الكهف : ٧٥) فَانْطَلَقَا پھر ان دونوں نے ایک دیوار پائی جو گرنے کو تھی۔فَوَجَدَا جِدَارًا يُرِيْدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ انہوں نے اس کو درست کر دیا۔حضرت ابن عباس