صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 47
صحيح البخارى جلده ۴۷ ۵۴ - كتاب الشروط ۲۷۲۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ :۲۷۲۷ محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِي بْن ثَابِتِ عَنْ ہمیں بتایا۔انہوں نے عدی بن ثابت سے، عدی نے أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابو حازم سے ، ابوحازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ قَالَ نَهَى رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی قافلہ سے آگے جا کر ملنے کی ممانعت کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّلَقِي وَأَنْ يُبْتَاعَ اور اس بات سے بھی کہ کوئی مہاجر کسی بدوی کے لئے اور الْمُهَاجِرُ لِلْأَعْرَابِي وَأَنْ تَشْتَرِطَ خرید و فروخت کرے۔اور اس سے بھی کہ کوئی عورت الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا وَأَنْ يَسْتَامَ اپنی بہن کو طلاق دینے کی شرط کرے۔اور اس سے بھی الرَّجُلُ عَلَى سَوْمٍ أَخِيْهِ وَنَهَى عَنِ کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے۔النَّجْشِ وَعَنِ التَّصْرِيَةِ۔اور آپ نے دھوکا دینے کیلئے قیمت بڑھانے سے اور تھنوں میں دودھ جمع رکھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔تَابَعَهُ مُعَادٌ وَعَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ شُعْبَةَ ( محمد بن عرعرہ کی طرح ) معاذ (بن معاذ ) اور عبد الصمد وَقَالَ غُنْدَرٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ نُهِيَ۔وَقَالَ نے بھی شعبہ سے یہ روایت نقل کی ہے۔اور غندر اور آدَمُ نُهِيْنَا۔وَقَالَ النَّضْرُ وَحَجَّاجُ عبد الرحمن ( بن مہدی ) نے یوں کہا: منع کیا گیا ہے۔اور آدم بن ابی ایاس) نے کہا کہ ہمیں ممانعت کی گئی ؟ ابْنُ مِنْهَالٍ نَهَى۔اور نضر بن شمیل ) اور حجاج بن منہال نے یوں کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) نے منع فرمایا۔اطرافه: ۲۱٤۰، ۲۱۱۸، ٢١٥۰، ٢١٥١، ٢١٦٠، ٢١٦٢، ٢٧٢٣، ٥١٤٤، ٥١٥٢، 6601۔تشرح الشَّرُوطُ فِي الطَّلَاقِ : عنوان باب کے حوالوں سے مسئلہ معونہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ طلاق یری معلق میں بھی فقہاء نے شرطیں جائز رکھی ہیں۔مثلاً خاوند کہے کہ اگر تم فلاں جگہ گئی تو تمہیں طلاق ہے۔محولہ بالا دونوں روایتیں ابن ابی شیبہ پہلو نے نقل کی ہیں کہ سعید بن مسیب اور حسن بصری کا فتویٰ ہے کہ لفظ طلاق جملہ شرطیہ میں مقدم ہو یا مؤخر طلاق شرط کے مطابق واقع ہو جائے گی۔یہی مذہب جمہور کا ہے۔یہاں مسئلہ طلاق زیر بحث نہیں۔شرط متعلق صرف وہ مسئلہ زیر بحث ہے جس کی بابت فقہاء کا اختلاف شروع میں بیان کیا جا چکا ہے۔حوالہ جات کے لئے عمدۃ القاری جزء ۱۳۰ صفحه ۳۰۲ دیکھئے۔حضرت ابو ہریرہ کی مذکورہ بالا روایت کا ذکر بھی اسی غرض سے کیا گیا ہے۔اس روایت کے لئے کتاب البیوع باب ۵۸ روایت نمبر ۲۱۴۰ نیز باب ۶۸ روایت نمبر ۲۱۵۸ بھی دیکھئے۔مصنف ابن ابی شیبه کتاب الطلاق، باب فى الرجل يحلف بالطلاق ، جزء ۲ صفحه ۸۱)