صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 46
صحيح البخاری جلده اسم ۵۴ - كتاب الشروط اشْتَرِيْنِي فَإِنَّ أَهْلِي يَبِيْعُونَنِي کیونکہ میرے مالک مجھے بیچتے ہیں۔ پھر آپ مجھ کو آزاد فَأَعْتَقِيْنِي قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ إِنَّ أَهْلِي کردیں۔ (حضرت عائشہ نے) کہا: اچھا۔ بریرہ نے کہا: لَا يَبِيعُونَنِي حَتَّى يَشْتَرِطُوْا وَلَائِي میرے مالک مجھے نہیں بیچتے جب تک میرے حق وراثت قَالَتْ لَا حَاجَةَ لِي فِيْكِ فَسَمِعَ ذَلِكَ کو اپنے لئے مشروط نہ کر لیں۔ (ین کر حضرت عائشہ نے) کہا: مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔ یہ بات رسول اللہ علی رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَلَغَهُ نے سنی؛ یا آپ کو پہنچی تو آپ نے (حضرت عائشہ سے) فَقَالَ مَا شَأْنُ بَرِيْرَةَ فَقَالَ اشْتَرِيْهَا پوچھا کہ بریرہ کا کیا معاملہ ہے؟ آپ نے (معاملہ سن کر ) فَأَعْتِقِيْهَا وَلْيَشْتَرِطُوا مَا شَاءُوا قَالَتْ فَمایا تم اسے خریدلو اور اسکو آزاد کر دو اور وہ جو چاہیں فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا شرطیں کرلیں ۔ (حضرت عائشہ) کہتی تھیں: تب میں وَلَاءَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اسے خرید لیا اور اس کو آزاد کر دیا؛ اور اس کے وَسَلَّمَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِالکوں نے اس کے حق وراثت کو اپنے لئے مشروط رکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حق وراثت تو اس کا مِائَةَ شَرْط۔ ہوتا ہے جو آزاد کرے، خواہ مالک سو شرطیں لگائیں ۔ اطرافه: ٤٥٦ ، ١٤٩٣، ٢١٥٥ ، ٢١٦٨، ٢٥٣٦ ، ٢٥٦٠ ، ٢٥٦١، ٢٥٦٣، ٢٥٦٤، ،٥٢٨٤، ٥٤٣٠ ،۵۲۷۹ ،۵۰۹۷ ، ۲۷۳۵ ،۲۷۲۹ ،۲۷۱٢٥٦٥ ، ٢٥٧٨، ٧ ٦٧١٧، ٦٧٥١، ٦٧٥٤ ، ٦٧٥٨ ، ٦٧٦٠ تشريح : مَا يَجُوزُ مِنْ شُرُوطِ الْمُكَاتَبِ إِذَا رَضِيَ بِالْبَيْعِ عَلَى أَنْ يُعْتَقَ : اس حلق میں کتاب العتق باب اروایت نمبر ۲۵۳۶، کتاب المکاتب نیز محوله روایت کتاب الشروط زیر باب ۳ روایت نمبر ۷ ۲۷۱ دیکھئے ۔ بَاب ۱۱ : الشُّرُوْطُ فِي الطَّلَاقِ طلاق میں شرطیں وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ وَالْحَسَنُ وَعَطَاءٌ اور (سعید بن مسیب، حسن (بصری) اور عطاء ( بن إِنْ بَدَا بِالطَّلَاقِ أَوْ أَخَّرَ فَهُوَ أَحَقُّ الى رباح) نے کہا: خواہ طلاق پہلے بیان کرے یا بعد کو (یعنی یہ کہے کہ اگر تو نے ایسا کیا تو طلاق دے دوں گا؟ یا بِشَرْطِهِ ۔ یہ کہے کہ میں تجھے طلاق دے دوں گا، اگر تو نے ایسا کیا ) تو وہ شرط کی پابندی کا زیادہ حقدار ہے۔