صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 46 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 46

صحيح البخارى جلده م ۵۴ - كتاب الشروط اشْتَرِيْنِي فَإِنَّ أَهْلِي يَبِيْعُونَنِي کیونکہ میرے مالک مجھے بیچتے ہیں۔پھر آپ مجھ کو آزاد فَأَعْتِقِيْنِي قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ إِنَّ أَهْلِي کر دیں۔حضرت عائشہ نے ) کہا: اچھا۔بریرہ نے کہا: لَا يَبْعُوْنَنِي حَتَّى يَشْتَرِطُوا وَلَائِي میرے مالک مجھے نہیں بیچتے جب تک میرے حق وراثت قَالَتْ لَا حَاجَةَ لِي فِيْكِ فَسَمِعَ ذَلِكَ کو اپنے لئے مشروط نہ کرلیں۔(بین کر حضرت عائشہ نے) کہا: مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔یہ بات رسول اللہ علیہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَلَغَهُ نے سنی، یا آپ کو پہنچی تو آپ نے (حضرت عائشہ سے) فَقَالَ مَا شَأْنُ بَرِيْرَةَ فَقَالَ اشْتَرِيْهَا پوچھاکہ بریرہ کا کسی معاملہ ہے؟ آپ نے (معاملہ سن کر ) فَأَعْتِقِيْهَا وَلْيَشْتَرِطُوْا مَا شَاءُوْا قَالَتْ فرمایا تم اسے خرید لو اور اس کو آزاد کر دو اور وہ جو چاہیں فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا شرطیں کرلیں۔(حضرت عائشہ) کہتی تھیں: تب میں وَلَاءَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اسے خرید لیا اور اس کو آزاد کر دیا؛ اور اس کے وَسَلَّمَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَإِنِ اشْتَرَطُوا بالکوں نے اس کے حق وراثت کو اپنے لئے مشروط رکھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حق وراثت تو اس کا مِائَةَ شَرْطٍ۔ہوتا ہے جو آزاد کرے، خواہ مالک سو شرطیں لگائیں۔اطرافه: ٤٥٦ ، ۱٤٩٣، ۲۱۰۰، ۲۱۶۸، ٢٥٣٦، ٢٥٦٠، ٢٥٦١، ٢٥٦٣، ٢٥٦٤، ،٥، ٥٢٨٤ ٥٤٣٠۲۷۹ ،۵۰۹۷ ،۲۷۳۵ ،۲۷۲۹ ،۲۷۱۷ ،۲۷۸، ٢٥٦٥ ٦٧١٧، ٦٧٥١، ٧٥٤، ٦٧٥٨، ٠٦٧٦٠ تشریح : مَا يَجُوزُ مِنْ شُرُوطِ الْمُكَاتَبِ إِذَا رَضِيَ بِالْبَيْعِ عَلَى أَنْ يُعْتَقَ : اس تعلق میں کتاب العتق باب اروایت نمبر ۲۵۳۶، کتاب المکاتب نیز محوله روایت کتاب الشروط زیر باب ۳ روایت نمبر ۷ ۲۷۱ د یکھئے۔بَاب ١١ : الشَّرُوطُ فِي الطَّلَاقِ طلاق میں شرطیں وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ وَالْحَسَنُ وَعَطَاءٌ اور (سعید بن مسیب حسن (بصری ) اور عطاء ( بن إِنْ بَدَا بِالطَّلَاقِ أَوْ أَخَّرَ فَهُوَ أَحَقُّ الى رباح) نے کہا: خواہ طلاق پہلے بیان کرے یا بعد کو (یعنی یہ کہے کہ اگر تو نے ایسا کیا تو طلاق دے دوں گا؛ یا بِشَرْطِه۔یہ کہے کہ میں تجھے طلاق دے دوں گا، اگر تو نے ایسا کیا ) تو وہ شرط کی پابندی کا زیادہ حقدار ہے۔