صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 45
صحيح البخاری جلده ۴۵ ۵۴ - كتاب الشروط عَامٍ وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ فَقَالَ میرے بیٹے کو تو صرف ایک سو کوڑے پڑنا تھے اور ایک رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سال کی جلا وطنی ، اور اس (شخص) کی بیوی کو سنگسار کرنا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا تھا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی بِكِتَابِ اللَّهِ الْوَلِيْدَةُ وَالْغَنَمُ رَدُّ وَعَلَی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق ہی فیصلہ کروں ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيْبُ عَامٍ اغْدُ گا۔ وہ لونڈی اور بکریاں تو واپس کی جائیں اور تمہارے ا ہے۔ میں يَا أَنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ بٹے کو ایک سو کوڑا لگایا جائے اور وہ ایک سال کے لئے فَارْجُمْهَا قَالَ فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ جلا وطن کر دیا جائے۔ اُنہیں ! کل اس کی بیوی کے فَأَمَرَ بِهَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ پاس جاؤ۔ اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کرو۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَتْ۔ (حضرت ابو ہریرہ نے) کہا: چنانچہ انیس دوسرے دن صبح اس کے پاس گئے ۔ اُس نے اقرار کیا۔ رسول اللہ نے اس کی نسبت فیصلہ فرمایا۔ وہ سنگسار کی گئی۔ اطراف الحدیث ۲۷۲۴ : ۲۳۱۵، ۲۹۹۵، 6633، 687، 6833، 6835، ٦٨٤٢، ٦٨٥٩، ٧١٩٣، ٧٢٥٨، ٧٢٦٠، ٧٢٧٨ اطراف الحدیث ۲۷۲۵: ۲۳۱۴ ، ٢٦٤۹، ٢٦٩٦، ٦٦٣٤، ٦٨٢٨، ٦٨٣١، ٦٨٣٦، ۷۲۷۹ ،۷۲۵۹ ،۷۱۹٦٨٤٣ ، ٦٨٦٠، ٤ تشريح : الشُّرُوطُ الَّتِي لَا تَحِلُّ فِي الْحُدُودِ: مسئلہ عنہ کے تعلق میں کتاب الصلح تشریح باب ۵ روایت نمبر ۲۶۹۵-۲۶۹۶ دیکھئے۔ بَاب ۱۰ : مَا يَجُوزُ مِنْ شُرُوطِ الْمُكَاتَبِ إِذَا رَضِيَ بِالْبَيْعِ عَلَى أَنْ يُعْتَقَ مکاتب کا آزاد کئے جانے کی شرط پر فروخت ہونا، اگر وہ منظور کرلے تو پھر کونسی شرطیں جائز ہیں؟ ٢٧٢٦ : حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ۲۷۲۶: خلاد بن یحی نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الواحد حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ الْمَكِّيُّ بن ایمن مکی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے عَنْ أَبِيْهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ کے پاس گیا۔ کہتی تھیں کہ بریرہ میرے پاس آئی اور وہ وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ فَقَالَتْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مکاتبہ تھی۔ اس نے کہا: ام المومنین! آپ مجھے خرید لیں