صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 44 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 44

صحيح البخارى جلده مم ۵۴ - كتاب الشروط تشریح مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الشَّرُوطِ فِى النِّكَاح: باب کی تشریح کے لئے کتاب البیوع باب ۵۸ روایت نمبر ۲۱۴۰، کتاب النکاح باب ۴۵ روایت نمبر ۵۱۴۴ دیکھئے۔جہاں حضرت ابو ہریرہ کی مذکورہ بالا روایت منقول ہے۔باب ٩: الشروط الَّتِي لَا تَحِلُّ فِي الْحُدُودِ وہ شرطیں جو بدنی سزاؤں میں ناجائز ہیں ٢٧٢٤ - ۲۷۲٥: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ۲۷۲۴-۲۷۲۵: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان ابْنِ سَعِيْدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ کیا کہ لیٹ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود مَسْعُوْدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ سے عبید اللہ نے حضرت ابو ہریرہ اور حضرت زید بن خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا خالد جنى رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ان دونوں نے قَالَا إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَى کہا کہ بدویوں میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! میں فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اللہ کی کتاب کے قَضَيْتَ لِي بِكِتَابِ اللهِ فَقَالَ الْخَصْمُ مطابق میرا فیصلہ فرمائیں۔اور اُس کے حریف نے بھی الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ نَعَمْ فَاقْضِ بَيْنَنَا کہا اور وہ اُس سے زیادہ سمجھدار تھا۔ہاں آپ ہمارے بِكِتَابِ اللهِ وَأَذَنْ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ در میان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ قَالَ إِنَّ (بیان کرنے کی اجازت دیں۔رسول اللہ صلی اللہ ابْنِي كَانَ عَسِيْفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى علیہ وسلم نے فرمایا: بیان کرو۔اُس نے کہا: میرا بیٹا اس بِامْرَأَتِهِ وَإِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي کے پاس نوکر تھا اور اُس نے اس کی بیوی سے زنا کیا الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ اور مجھے بتایا گیا کہ میرا بیٹا سنگسار ہوگا۔میں نے ایک وَوَلِيْدَةٍ فَسَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي سوبکری اور ایک لونڈی دے کر اُس کو چھڑا لیا۔پھر أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيْبُ میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ