صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 43
صحيح البخاری جلده م بم ۵۴ - كتاب الشروط يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: میں نے حنظلہ زرقی الزُّرَقِيَّ قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ہے نا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنَّا أَكْثَرَ رضی اللہ عنہ سے سنا کہتے تھے کہ تمام انصار میں سے ہمارے کھیت زیادہ تھے اور ہم زمین کو کرایہ پر دیا الْأَنْصَارِ حَقْلًا فَكُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ کرتے تھے۔ کبھی یہ (زمین) پیدا کرتی اور وہ (زمین) فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلَمْ تُخْرِجُ ذِهِ پیدا نہ کرتی۔ اس لئے ہمیں بٹائی پر زمین دینے کی فَنُهِينَا عَنْ ذَلِكَ وَلَمْ تُنْهَ عَنِ الْوَرِقِ ممانعت کی گئی اور روپے کے بدلے میں (زمین کا اطرافه: ۲۲٨٦، ۲۳۲۷، ٢٣٣٢، ٢٣٤٤۔ ٹھیکہ دینے سے ) ممانعت نہیں کی گئی ۔ تشریح : الشَّرُوطُ فِي الْمُزَارَعَةِ: اس تعلق میں کتاب المزارعة تشرح باب ۱۸، ۹ دیکھئے۔ بَاب : مَا لَا يَجُوْزُ مِنَ الشُّرُوْطِ فِي النِّكَاحِ نکاح میں جو شرطیں جائز نہیں ۲۷۲۳ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ ۲۷۲۳: مسدد نے ہمیں بتایا۔ یزید بن زرایع نے ہم ابْنُ زُرَيْعِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہے، زہری نے سعید (بن مسیب) سے، سعید نے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تَنَاجَشُوْا وَلَا بستی والا دیہاتی کے لئے نہ بیچے؛ اور تم آپس میں يَزِيدَنَّ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبَنَّ عَلَى فریب دہی نہ کیا کرو اور نہ کبھی کوئی اپنے بھائی کی خِطْبَتِهِ وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا خرید و فروخت پر بڑھائے؛ اور نہ اس ۔ رنہ اس کے پیغام نکاح لِتَسْتَكْفِي إِنَاءَهَا ۔ پر پیغام بھیجے، اور نہ کوئی عورت اپنی سوکن کو طلاق دینے کے لئے کہے تا کہ اس کے برتن کو بھی (اپنے برتن میں ) انڈیل لے۔ إطرافه: ٢١٤٠ ، ٢١٤٨، ٢١٥٠، ٢١٥١، ٢١٦٠، ۲۱٦٢ ، ۲۷۲۷، ٥١٤٤، 5151، 6601۔