صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 540
صحیح البخاری جلده ۵۴۰ ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة كَائِنَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِي وَالَّذِي نہ دینا ر وصول کرو گے نہ درہم؟ تو ان سے پوچھا گیا: نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ عَنْ قَوْلِ ابو ہریرہ! آپ کے خیال میں یہ کیسے ہوگا ؟ تو انہوں الصَّادِقِ الْمَصْدُوْقِ قَالُوْا عَمَّ ذَلِكَ نے کہا: اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی قَالَ تُنْتَهَكُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ رَسُوْلِهِ جان ہے! میں نے یہ بات اُس کے بتانے سے لی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَشُدُّ الله عز ہے جو بچے تھے اور ان سے بچی بات ہی کہی جاتی تھی۔ لوگوں نے کہا: بیان کریں کہ کس وجہ سے ایسا ہوگا۔ وَجَلَّ قُلُوْبَ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَيَمْنَعُوْنَ مَا انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فِي أَيْدِيهِمْ۔ کی ذمہ داری کی ہتک کی جائے گی۔ تو اللہ عز وجل ذمیوں کے دلوں کو سخت کر دے گا تو وہ مال جو ان کے ہاتھوں میں ہوں گے، روک لیں گے۔ تشريح : إِثْمُ مَنْ عَاهَدَ ثُمَّ غَدَرَ : غداری بالاتفاق منوع او حرام ہے۔ خواہ معاہد سے ہو یا ڈی سے۔ nnnnn عنوان باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس کا ذکر سابقہ باب کی تشریح میں گزر چکا ہے۔ پوری آیت یہ ہے : إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِ عِندَ اللَّهِ الَّذِينَ كَفَرُوا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ) الَّذِينَ عَاهَدْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ وَهُمْ لَا لا يَتَّقُونَ (الأنفال: الأنفال : (۵۷،۵۶) ان آیات میں ایسے لوگ بدترین حیوان قرار دیئے گئے ہیں جو معاہدہ کی پاسداری نہیں کرتے بلکہ اسے توڑتے ہیں۔ تقوی اللہ سے خالی ، خائن اور اللہ تعالیٰ کی نظر میں قابل نفرت مخلوق ہیں۔ اس باب کے تحت تین روایتیں ہیں ۔ تیسری روایت وَقَالَ أَبُو مُوسَى ۔۔ ابو نعیم نے مستخرج میں یہ نقل کی ہے۔ لیکن صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں یہ روایت لفظ حَدَّثَنَا سے ہے۔ لَمْ تَجْتَبُوا ، جَبَايَهِ سے ہے۔ جس کے معنی مالیہ کے ہیں۔ اِجْتَبَی فلان اس نے مالیہ وصول کیا ۔ يَمْنَعُوْنَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ کا مطلب یہ ہے کہ وہ خراج نہیں دیں گے۔ یعنی مسلمانوں کی غداری سے یہ حال ہو جائے گا کہ ذمی بھی خراج دینا بند کر دیں گے۔ جو نفس اپنے خالق کی ذمہ واری نظر انداز کرتا ہے اللہ کی مخلوق بھی اپنی وہ ذمہ داریاں پس پشت ڈال دیتی ہے جو اس کے حق میں کسی نفس سے عائد ہوتی ہیں۔ ترجمه از حضرت خلیفة المسیح الرابع: یقینا اللہ کے نزدیک بدترین جاندار وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور وہ کسی صورت ایمان نہیں لاتے۔ (یعنی) وہ لوگ جن سے تو نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور وہ ڈرتے نہیں “