صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 541
صحیح البخاری جلده ۵۴۱ ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة باب ۱۸ ۳۱۸۱ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا :۳۱۸۱ عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ ابوحمزہ نے أَبُو حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشِ ہمیں خبر دی، کہا: میں نے اعمش سے سنا۔ انہوں نے قَالَ سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ شَهِدْتَ صِفَيْنَ کہا: میں نے ابو وائل سے پوچھا۔ کیا آپ صفین کی جنگ میں موجود تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں اور میں قَالَ نَعَمْ فَسَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ نے حضرت سہل بن حنیف سے سنا۔ لوگوں سے کہہ يَقُولُ اتَّهِمُوْا رَأْيَكُمْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ رہے تھے کہ اپنی رائے کمزور سمجھو۔ میں نے ابو جندل أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ کے واقعہ میں دیکھا۔ مجھے خیال آیا: کاش مجھے طاقت النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُهُ ہو کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات رڈ کر دوں تو میں وَمَا وَضَعْنَا أَسْيَافَنَا عَلَى عَوَائِقِنَا ضرور رڈ کر دیتا اور ہم نے اپنے کندھوں پر کسی ایسے امر کے لئے جس نے ہمیں گھبرا دیا ہو تلواریں نہیں لِأَمْرٍ يُفْطِعُنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ رکھیں۔ مگر آخروه ۔ ۔ مگر آخر وہ امر ہمارے لئے آسان ہو گیا اور نَعْرِفُهُ غَيْرِ أَمْرِنَا هَذَا ۔ ہمیں اس کی حقیقت معلوم ہوگئی۔ لیکن ہمارا یہ ایسا امر ہے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس کا انجام کیا ہو۔ اطرافه: ۳۱۸۲، 3۱۸۹، 4844، 7308 ۳۱۸۲ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۳۱۸۲ عبدالله بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ بن آدم نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا: ) یزید بن عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيْهِ حَدَّثَنَا حَبِيْبُ بْنُ عبد العزیز نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے أَبِي ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو وَائِلٍ قَالَ ہمیں بتایا۔ (ان کے باپ نے کہا کہ حبیب بن ابی ثابت نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابو وائل نے مجھے كُنَّا بِصِفَيْنَ فَقَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ بتایا۔ انہوں نے کہا: ہم صفین میں تھے کہ حضرت سہل فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوْا أَنْفُسَكُمْ فَإِنَّا بن حنیف کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے لوگو! كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اپنے آپ کو ہی غلطی پر سمجھو۔ کیونکہ ہم حدیبیہ کے يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔