صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 36
صحيح البخارى جلده ۵۴ - كتاب الشروط رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ایسی کھجوریں مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُتِرَتْ فَثَمَرَتُهَا بیچ نہیں پیوند کیا جا چکا ہو تو اُن کا پھل بیچنے والے لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ۔کے لئے ہوگا، سوائے اس کے کہ خریدار شرط کر لے۔اطرافه ۲۲۰۳، ٢٢٠٤، ٢٢٠٦، ٢٣٧٩۔تشریح : إِذَا بَاعَ نَخُلًا قَدْ أُتِرَتْ : اس تعلق میں کتاب البیوع تشریح باب ۹۰ روایت نمبر ۲۲۰۳ دیکھئے۔بَاب ٣ : الشُّرُوطُ فِي الْبُيُوع خرید و فروخت میں شرطیں کرنا :۲۷۱۷ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۲۷۱۷: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيْرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ انہیں خبر دی کہ بریرہ حضرت عائشہ کے پاس آئی۔ان تَسْتَعِيْنُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ سے اپنی کتابت کے متعلق مدد مانگتی تھی اور ابھی تک مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ اس نے اپنی کتابت سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔حضرت ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا عائشہ نے اس سے کہا: اپنے مالکوں کے پاس واپس أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ جاؤ۔اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری طرف سے تمہاری وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ کتابت کا روپیہ ) ادا کر دوں اور تمہارا حق وراثت بَرِيْرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوْا إِنْ میرا ہو تو میں ادا کئے دیتی ہوں۔بریرہ نے اپنے مالکوں شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ سے یہ ذکر کیا تو وہ نہ مانے اور انہوں نے کہا: اگر حضرت وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عائشہ چاہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے تم پر کوئی احسان لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کریں تو وہ کریں مگر تمہارا حق وراثت ہمارا ہی ہوگا۔فَقَالَ لَهَا ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي فَإِنَّمَا پھر حضرت عائشہ نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا۔