صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 35 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 35

صحيح البخاری جلد۵ ۳۵ ۵۴ - كتاب الشروط نگ و ناموس کو قبضہ میں نہ رکھو، اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا ہے (اگر وہ بھاگ کر کفار کی طرف جائیں تو ) کفار سے مانگو۔(اگر کفار کی بیویاں مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آجائیں تو ) جو کچھ انہوں نے (اپنے نکاحوں پر ) خرچ کیا ہے، مسلمانوں سے مانگیں۔یہ تمہیں اللہ کا ارشاد ہے۔وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ جانے والا اور حکمت والا ہے۔محن کے معنے ہیں کھرے کھوٹے کا نکھار کیا۔کہتے ہیں : مَحَنَ الْفِضَّةَ : صَفَّاهَا وَخَلَّصَهَا بِالنَّارِ۔آگ سے چاندی کو صاف اور خالص بنایا۔(اقرب الموارد (محن) اس سے لفظ امتحان ہے۔لفظ اختبار کے بھی یہی معنی ہیں؟ دلوں کی حالت پر کھنا۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے : إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوى لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ ( الحجرات (۴) یعنی وہ لوگ جو اپنی آوازیں رسول کے سامنے دبا کر رکھتے ہیں، وہی ہیں جن کے دلوں کا اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لئے پوری طرح جائزہ لے لیا ہے اور اُن کے لئے مغفرت اور بڑا اجر مقدر ہے۔یعنی ظاہری ادب سے دلوں کی کیفیت کا پتہ چلتا ہے۔اسی طرح جن عورتوں سے متعلق بذریعہ تحقیق و آزمائش معلوم ہو جائے کہ وہ اپنا دین محفوظ کرنے کی غرض سے ہجرت کر کے آئی ہیں، وہ واپس نہ کی جائیں۔سورۃ الممتحنة کا نزول صلح حدیبیہ کے بعد ہوا۔اور اس میں جو واضح حکم عورتوں سے متعلق وارد ہوا ہے، اس حکم میں جہاں تک کفار کی عورتوں کا تعلق ہے اُن کے ساتھ پورا منصفانہ سلوک مد نظر رکھا گیا ہے ، سو وہ شرا کا اصلح کے خلاف نہیں کہ صلح نامہ حدیبیہ میں عورتوں کا مسلمان یا مرتد ہو کر ایک طرف سے دوسری طرف آنے جانے کا سوال ہی نہ تھا۔حضرت ام کلثوم صلح حدیبیہ کے بعد پہلی مہاجر خاتون ہیں۔یہ اور حضرت عثمان اخیافی بہن بھائی تھے۔اُن کا باپ اور کے عقبہ بن ابی معیط ان سرداروں میں سے تھا جو اسلام کے سخت دشمن تھے۔ابھی ناکتخدا سے ہی تھیں جب وہ مکہ مکرمہ سے اسلام قبول کرنے کے لئے بغیر اطلاع واجازت مدینہ میں چلی آئیں۔ان کے بھائی دوسرے دن مدینہ میں پہنچ گئے ، سو ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے فریاد کی کہ وہ عورت ہے جو کمزور جنس ہے اور اپنا ایمان محفوظ نہ رکھ سکے گی۔صلح نامہ میں عورتوں کی واپسی کا ذکر نہ تھا۔ارشاد باری تعالیٰ کی تعمیل میں آنحضرت ﷺ نے انہیں واپس نہ کیا۔ان کا نکاح حضرت زید بن حارثہ سے ہوا اور اُن کی جرات ایمانی کی بڑی قدر کی گئی۔( الإصابة في تمييز الصحابة - ام كلثوم بنت عقبة) بَاب ٢ : إِذَا بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبْرَتْ جو ایسی کھجوریں بیچے جنہیں پیوند کیا جا چکا ہو ٢٧١٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ :۲۷۱۶ عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ لے اخیافی: وہ بھائی بہن جن کے باپ الگ الگ اور ماں ایک ہو۔سے ناکتخدا: کنواری