صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 34 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 34

صحيح البخاری جلده ۵۴ - كتاب الشروط وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ۔سے نماز سنوار کر پڑھنے، زکوۃ دینے اور ہر ایک مسلمان کے لئے خیر خواہی کرنے کی بیعت کی۔اطرافه ٥٧ ۵۲٤، ۱۴۰۱، ۲۱۰۷، ٢٧١٤، ٧٢٠٤ تشریح : مَا يَجُوزُ مِنَ الشَّرُوطِ فِي الْإِسْلَامِ وَالْأَحْكَامِ وَالْمُبَايَعَةِ : عنوانِ باب کا تعلق تین قسم کی شرطوں سے ہے۔اقول: ایسی شرطیں جن کا تعلق صحت قبولیت اسلام سے ہے۔دوم: وہ شرطیں جن کا تعلق فیصلہ جات سے ہے۔سوم : وہ شرطیں جو معاملات بیع وغیرہ سے متعلق ہوں۔روایت نمبر ۲۷۱۱-۲۷۱۳۲۷۱۲ کا تعلق صحت احکام سے ہے۔حضرت ابو جندل کا واپس نہ کرنا طے شدہ شرائط کے منافی تھا۔اس لئے صحابہ کرام کی مرضی کے خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا۔اس بارہ میں کتاب اللہ میں اَوْفُوا بِالْعُقُودِ (المائدة:۲) کا صریح حکم موجود ہے اور اس کے خلاف کہیں صراحت نہیں کہ مسلمان کا فر کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔مدینہ میں مہاجر عورتوں کی واپسی کے بارے میں صریح حکم موجود ہے کہ وہ واپس نہ کی جائیں اور وہ کفار کی عورتیں بن کر نہیں رہ سکتیں ؛ اس لئے آپ نے انہیں واپس نہیں کیا۔نیز معاہدے میں عورتوں کا ذکر بھی نہیں تھا۔بیعت کے وقت اس حکم کی پابندی کا اقرار لے لیا جاتا تھا۔روایت نمبر ۲۷۱۴، ۲۷۱۵ کا تعلق صحت قبولیت اسلام سے ہے۔اوّل الذکر روایت میں خیر خواہی لازمی شرط قرار دی گئی ہے کہ اگر کوئی نفاق اور بدنیتی سے مسلمان ہو تو اس کا اسلام قبول کرنا درست نہ ہوگا۔ثانی الذکر روایت میں نماز، زکوۃ اور خیر خواہی کا ذکر بطور شرط صحت اسلام اکٹھا کیا گیا ہے۔واقعہ صلح حدیبیہ کا تعلق حقوق سے تھا کہ مسلمان عمرہ بیت اللہ کا حق رکھتے تھے اور قریش مکہ انہیں روک رہے تھے۔جس سے ایک صورت نزاع قائم ہوئی اور اس کا فیصلہ بذریعہ شرائط صلح ہوا۔چونکہ عمرہ کے لئے یہ شرط نہیں کہ فلاں وقت ہی کیا جائے اس لیے اس میں مصالحت کا طریق اختیار کیا گیا کہ شریعت میں وقت کی پابندی سے عمرہ ادا کرنا بطور شرط نہیں کہ وہ اگر دوسرے وقت کیا جائے تو باطل ہوگا۔مگر نیک نیتی سے اسلام قبول کرنا اور فریضہ صلوة و زکوۃ صحت اسلام کے لئے ضروری شرطیں ہیں۔محولہ بالا آیت یہ ہے جو بصورت حکم ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَ كُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِبُوهُنَّ اللَّهُ اَعْلَمُ بِإِيْمَانِهِنَّ ، فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمُ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ وَاتُوهُم مَّا أَنْفَقُوا وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ إِذَا اتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَاسْتَلُوا مَا انْفَقْتُمْ وَلْيَسْتَلُوا مَا انْفَقُوا ذَلِكُم حُكْمُ اللهِ ، يَحْكُمُ بَيْنَكُم * وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (الممتحنة 11) یعنی اے مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کو اچھی طرح آزما لیا کرو۔اللہ ان کے ایمانوں کو خوب جانتا ہے۔لیکن اگر تم بھی جان لو کہ وہ مومن عورتیں ہیں تو ان کو کافروں کی طرف نہ کو ٹاؤ۔نہ وہ اُن ( یعنی کافروں) کے لئے جائز ہیں؟ اور نہ وہ (کافر) ان عورتوں کے لئے جائز ہیں۔اور چاہیے کہ کفار نے جو ( اُن عورتوں کے نکاح پر ) خرچ کیا ہو ، وہ ان کو واپس کر دو اور (جب تم ان عورتوں کو کفار سے فارغ کر وا لو تو ) ان کے معاوضے ( یعنی مہر ادا کرنے کی صورت میں اگر تم ان سے شادی کر لو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔اور کافر عورتوں کے ط ط ط می ط