صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 514 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 514

صحیح البخاری جلده واله ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة بَاب ۲ : إِذَا وَادَعَ الْإِمَامُ مَلِكَ الْقَرْيَةِ هَلْ يَكُوْنُ ذَلِكَ لِبَقِيَّتِهِمْ اگر امام بستی کے حاکم سے صلح کرلے تو کیا یہ صلح بستی والوں سے بھی ہو گی ٣١٦١: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ۳۱۶۱ : سہل بن بکار نے ہم سے بیان کیا کہ و ہیب حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن یحی سے، انہوں عَنْ عَبَّاسِ السَّاعِدِي عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ نے عباس ساعدی سے، عباس ساعدی نے حضرت السَّاعِدِي قَالَ غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ الوحمید ساعدی سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: ہم نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ وَأَهْدَى صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک پر حملہ کرنے کے لئے مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَلے اور ایلہ کے بادشاہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بَغْلَةً بَيْضَاءَ وَكَسَاهُ بُرْدًا وَكَتَبَ لَهُ سفید فیچر ہدیہ بھیجا اور آپ کے استعمال کے لئے ایک چادر بھی پہننے کے لئے بھیجی اور آپ نے ان کی بِبَحْرِهِمْ۔ أطرافه: ۱٤٨١، ۱۸۷۲، ۳۷۹۱، ٤٤٢٢۔ بستیاں اسی کے نام لکھ دیں۔ تشريح : إِذَا وَادَعَ الإِمَامُ مَلِكَ الْقَرْيَةِ هَلْ يَكُونُ ذَلِكَ لِبَقِيَّتِهِمُ: صلى الله مسئلہ معنونہ سے متعلق مندرجہ بالا روایت میں تو صراحت نہیں کہ ملک ایلہ کو جو امان دی گئی وہ سب رعایا پر شامل تھی۔ بعض شارحین کا خیال ہے کہ امام بخاری نے استدلال کیا ہے کہ ہدیہ پیش کرنے سے اس کی مراد یہ تھی کہ اس کا ملک اس کے پاس امن و سلامتی سے رہے اور اس کے باشندگان سے کوئی تعرض نہ ہو۔ امام ابن حجر اس استدلال کو کمزور سمجھتے ہیں اور کہا ہے کہ یہ امر تو عام معروف ہے کہ بادشاہ کی صلح رعایا کی صلح سمجھی جاتی ہے۔ ان کے نزدیک یہاں عباس حضرت ابوحمید ساعدی کی بعض دیگر سندوں کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جن میں اس امر کی صراحت ہے کہ ملک ایلہ یمنہ بن رو بہ غزوہ تبوک کے اثناء میں آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے جزیہ ہے زیہ پر صلح کی ۔ معاہدہ کے پورے الفاظ یہ ہیں : بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔ هَذِهِ أَمَنَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَمُحَمَّدٍ النَّبِيِّ رَسُولِ اللَّهِ لِيُحَنَّةِ بْنِ رُؤبَةً وَأَهْلِ أَيْلَةَ، سُفُتُهُمْ وَسَيَّارَتُهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ لَهُمْ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةٌ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ وَمَنْ كَانَ مَعَهُمُ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَأَهْلِ الْيَمَنِ وَأَهْلِ الْبَحْرِ فَمَنْ أَحْدَثَ مِنْهُمْ حَدَثًا فَإِنَّهُ لَا يَحُولُ مَالُهُ دُونَ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ طَيِّبٌ لِمَنْ أَخَذَهُ مِنَ النَّاسِ وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يُمْنَعُوا مَاءً يَرِدُونَهُ وَلَا طَرِيقًا يَرِدُونَهُ مِنْ بَر أَوْ بَحْرٍ۔ السيرة النبي لابن هشام، غزوة تبوك، الصلح بين الرسول ويحنة {یعنی یہ اللہ اور نبی یہ اللہ اور نبی محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے منہ ہے رف سے سکنہ بن روبہ اور اہل ایلہ کے لیے امان نامہ صلى الله