صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 515
صحیح البخاری جلده ۵۱۵ صلى الله ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة ہے۔ ان کے بری اور بحری قافلے اور کشتیاں اور کشتیاں اللہ تعالیٰ اور نبی محمد ﷺ کی امان میں ہیں اور ان کے بھی جو اہل شام ، اہل یمن اور اہل بحر میں سے ان کے ساتھ ہیں۔ لیکن ان میں سے جو بھی اس معاہدہ کو توڑے گا تو اس کا مال اس کی جان نہیں بچا سکے گا۔ اور لوگوں میں سے جو بھی اسے پکڑلے گا ، اس کے لیے وہ جائز ہوگا۔ اور کسی کو بھی پانی اور بری و بحری راستہ سے روکا نہیں جائے گا۔} روایت نمبر ۳۱۶۱ کے لیے کتاب الهبة باب ۲۸ بھی دیکھئے۔ مسئلہ معنونہ پر فقہاء متفق ہیں۔ اس بارہ میں ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ بَاب : الْوَصَاةُ بِأَهْلِ ذِمَّةِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جو باشندے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امان میں ہوں ان کی نسبت تاکیدی حکم وَالذَّمَّةُ الْعَهْدُ وَالْإِلُّ الْقَرَابَةُ۔ اور لفظ دمہ کے معنی عہد و پیمان اور ان کے معنی رشتہ داری کے ہیں۔ ٣١٦٢: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ۳۱۶۲ : آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ قَالَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ابو جمرہ نے ہم سے بیان کے بیان کیا، کہا: سَمِعْتُ جُوَيْرِيَةَ بْنَ قُدَامَةَ التَّمِيمِيَّ میں نے جویریہ بن قدامہ تمیمی سے سنا۔ انہوں نے کہا: قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ اللهُ عَنْهُ قُلْنَا أَوْصِنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ہم نے کہا: امیر المؤمنین ہمیں وصیت کریں۔ انہوں قَالَ أُوْصِيْكُمْ بِذِمَّةِ اللَّهِ فَإِنَّهُ ذِمَّةُ نے کہا: میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کے عہد کی نَبِيِّكُمْ وَرِزْقُ عِيَالِكُمْ۔ صلى الله نگہداشت رکھنا۔ کیونکہ وہ عہد تمہارے نبی ﷺ کا عہد و پیمان ہے اور تمہارے بال بچوں کا رزق ۔ أطرافه: ۱۳۹۲، ۳۰۵۲، ۳۷۰۰، ٤٨٨٨، ۷۲۰۷ صلى الله ذِمَّة کی جوت اور ان کی جو تشریح تشريح : الْوَصَاةُ بِأَهْلِ الذِّمَّةِ رَسُولِ اللهِ : عنوان باب من الفاظ دم اوران کی گئی ہے، اس سے قرآن مجید کی آیت ہے: لَا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَا ذِمَّةً وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ ) (التوبة: ١٠) مومن سے متعلق نہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ عہد کی ذمہ داری کا۔ اور وہ (اپنی دشمنی میں ) حد سے گزرے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذمیوں کے بارے میں عہد و پیمان کی نگہداشت رکھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ بلکہ آپ نے دشمنوں سے بھی معاہدہ کا احترام فرمایا۔ (دیکھئے کتاب الصلح بابے) عمرو بن میمون کی روایت میں حضرت عمرؓ کے یہ الفاظ یوں منقول ہیں : أُوصِيْهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ ﷺ أَنْ