صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 513 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 513

اری جلده ۵۱۳ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة فَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِى مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ : حضرت عمر کے ارشادِ فَرِّقُوا بَيْنَ كُلَّ ذِى مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ کی مختلف تشریحات کی گئی ہیں۔لیکن سیاق کلام میں اس کی صحیح تشریح یہ ہے کہ حضرت عمر چاہتے تھے کہ صلح کی شرائط کا اظہار اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ آخری فیصلہ نہ ہو جائے اور معلوم کرنا چاہتے تھے کہ مجوسیوں سے اہل کتاب والا سلوک کیا جائے یا مشرکین والا۔سعید بن منصور کی روایت کے یہ الفاظ ہیں: فَرِّقُوا بَيْنَ الْمَجُوسِ وَبَيْنَ مَحَارِمِهِمْ كَيْمَا نُلْحِقَهُمُ بِأَهْلِ الْكِتَابِ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت عمرؓ کے نزدیک جزیہ قبول کرنے کے لئے یہ شہر تھی کہ وہ اہل کتاب میں سے ثابت ہوں۔گویا اس جملہ میں ذی محرم سے مراد رازدار ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ تم راز داروں کو بھی جدا کر دو تا کہ وہ فیصلہ جو مجوس کے بارے میں کیا جارہا ہے اس کا افشاء نہ ہو۔بجالہ کی روایت دو سندوں سے ہے، ایک حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو سمائی ہے اور ایک حضرت عمر کی تحریر سے۔حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ابوداؤد نے نقل کی ہے کہ ہجر کے مجوس ( شکست کھانے پر ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور درخواست کی کہ ان سے جزیہ قبول کیا جائے تو آپ نے فرمایا: اسلام قبول کر دیا لڑائی جاری رکھو لے لیکن یہ روایت کمزور ہے اور حضرت عبد الرحمن بن عوف نے اسے رڈ کیا اور بتایا ہے کہ مجوس ہجر سے آپ نے جزیہ قبول کیا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا۔ابوداؤد نے حضرت ابن عباس کی روایت بسند قشیر بن عمرو نقل کی ہے جو کمزور ہے۔بعض روایتوں میں ایرانی ساحروں کے قتل کئے جانے کا بھی ذکر آتا ہے جو درست نہیں۔روایت نمبر ۳۱۵۸ سے ظاہر ہے کہ اہل بحرین سے جزیہ قبول کیا اور وہ اس وقت مشرک تھے۔( فتح الباری جزء ۱ صفحه ۳۱۴، ۳۱۵) تیسری روایت میں ہرمزان کے اسلام قبول کرنے کا ذکر مختصر بیان ہوا ہے۔معرکۃ الآراء جنگوں کے بعد ایرانیوں کو ہتھیار ڈال دینے پڑے۔حضرت نعمان بن مقرن مزنی کی قیادت میں جس جنگ کا ذکر کیا گیا تھا وہ نہاوند کی جنگ تھی اور ان کے لشکر میں کبار صحابہ شامل ہوئے۔اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ عجمیوں سے جزیہ قبول کیا گیا ہے۔تفصیل کے لئے دیکھیں فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۳۱۸ ، عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحه ۸۴۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق کا جو ذکر روایت نمبر ۳۱۶۰ کے آخر میں ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹھنڈے وقت اور سکون کی حالت میں جنگ شروع کی جاتی تھی اور نمازیں پڑھ لی جاتی تھیں۔تا دعاؤں کا موقع ملے۔حضرت نعمان بھی اسی طرح کرتے۔ان کی ہدایات میں سے جو فوج کو دی گئیں ایک ہدایت یہ مروی ہے : فَلْيَقْضِ الرَّجُلُ حَاجَتَهُ وَلْيَتَوَضًا سے کہ ہر مجاہد کو چاہیے کہ اپنی ضرورت پوری کرلے اور وضو کر لے۔پھر جو دعا وہ کرتے ، اس کے یہ الفاظ آتے ہیں: اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَلْكَ أَنْ تَقَرَّ عَيْنِي الْيَوْمَ بِفَتح يَكُونُ فِيهِ عِزُّ الْإِسْلَام وَذِلُّ الكُفْرِ۔یعنی اے میرے خدا! ہمیں ایسی فتح دے کہ ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں جس میں اسلام کی عزت اور کفر کی ذلت ہو۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۳۲۰ ) (سنن سعید بن منصور ، روایت ۲۰۲۴، جزء ۵ صفحه ۱۹۴) سنن أبی داود کتاب الخراج، باب في أخذ الجزية من المجوس) (مصنف ابن أبي شيبة، كتاب التاريخ، باب في توجيه النعمان بن مقرن الى نهاوند