صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 512
صحيح البخاری جلده ۵۱۲ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ۔۔۔۔: مشار الیہ حوالہ مسند عبد الرزاق میں موصولاً منقول ہے یا (فتح الباری جزء ۶ صفحه ۳۱۲) عنوانِ باب میں ذمی وحربی کا اکٹھا کر کر کے بتایا گیا ہے کہ جزیہ کی نوعیت مصالحت کی سی ہے۔ایک برسر پیکار قوم سے بھی صلح ہو سکتی ہے اور اس سے تاوان جنگ حسب شرائط وصول کیا جاتا ہے اور ذمی جو اسلامی ملک میں رہائش اختیار کرتا ہے۔اس سے بھی شرط مصالحت طے پاتی ہے اور حربی جو اپنے وطن کو واپس جاتا ہے اس سے بھی شرط طے پاتی ہے۔دونوں قسم کی شرطیں ایک ہی بنیاد پر قائم ہیں۔یعنی موادعت و مصالحت اور ان سے جو رقم حاصل ہوتی ہے وہ بھی درحقیقت جزیہ ہی ہے یعنی معاوضہ۔اس مماثلت کی وجہ سے دونوں کا ذکر ایک ہی عنوان میں کیا گیا ہے۔عنوانِ باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ یہ ہے: قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُؤْتُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ (التوبة: ٢٩) ترجمه از تفسیر صغیر: ” جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ یوم آخرت پر اور نہ اسے جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے حرام قرار دیتے ہیں اور نہ بچے دین کو اختیار کرتے ہیں یعنی وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی ہے ان سے جنگ کرو جب تک کہ وہ اپنی مرضی سے جزیہ ادا نہ کریں اور وہ تمہارے ماتحت نہ آجائیں۔“ اس آیت سے قبل کفار عرب کا ذکر ہے۔جنہوں نے معاہدات توڑے اور تعلقات قرابت کی پرواہ نہیں کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وطن سے نکالا اور لڑائی میں ابتداء کی۔ان باتوں کو بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے: فَقَاتِلُوا آئِمَّةَ الْكُفْرِ (التوبة :۱۲) اے مسلمانو ! کفر کے سرغنوں سے تم لڑو تا کہ یہ لوگ شرارتوں سے باز آجائیں۔اس کے بعد آیت قَاتِلُوا الَّذِينَ۔۔۔میں یہ فرمایا کہ اگر اہل کتاب حملہ کریں تو ان سے جنگ جائز ہے۔لیکن اگر شکست کھا کر جزیہ دینے کو تیار ہو جائیں تو پھر لڑائی کو لمبا نہ کیا جائے۔بلکہ ان کی غلطی کو معاف کر دیا جائے۔آیت کے آخری حصہ وَهُمْ صَاغِرُونَ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اقرار کریں کہ انہوں نے حملہ کرنے میں غلطی کی اور شکست کھا کر ذلیل ہوئے اور آخر ان کو مسلمانوں سے جزیہ پر صلح کرنی پڑی۔آیت مذکورہ بالا میں امر واقعہ کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ مغلوب ہو کر مسلمانوں کے مقابلے میں عاجز ہوئے۔عن يد کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت و مقدرت کے مطابق جزیہ دیں۔اس باب کے تحت پانچ روایتیں ہیں اور پانچوں سے ظاہر ہے کہ مشرکین عرب سے صلح کی گئی اور پارسیوں سے بھی۔پہلی روایت کا تعلق حضرت عبداللہ بن زبیر کے زمانہ خلافت سے ہے۔ان کی طرف سے حضرت مصعب بن زبیر امیر بصرہ مقرر کئے گئے تھے۔بجالہ تمیمی جو راوی ہیں مشہور تابعی ہیں اور جزء بن معاویہ بن حصن بن عبادہ تمیمی کے کار پرداز تھے۔جزء بن معاویہ احنف بن قیس کے چا ہیں اور صحابی ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اہواز کا امیر مقرر کیا تھا۔بقول بلاذری معاویہ بن سفیان کی خلافت تک زندہ رہے اور زیاد کے بھی کا رکن رہے۔حضرت عمر کے جس پروانہ کا یہاں ذکر ہے، ترندی اور ابوداؤد نے بھی اسے نقل کیا ہے۔ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۳۱۳) خلاصہ روایت یہ ہے کہ ایرانیوں کو شکست ہوئی اور وہ صلح پر تیار ہو گئے اور ان سے جزیہ قبول کیا گیا۔(مصنف عبد الرزاق، كتاب أهل الكتابين، باب كم يؤخذ منهم في الجزية، جزء ء ا صفحه ۳۱۰) (سنن الترمذى، كتاب السير، باب ما جاء في أخذ الجزية من المجوس) (سنن أبی داود، كتاب الخراج، باب في أخذ الجزية من المجوس)