صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 509
صحيح البخاری جلده ۵۰۹ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا بتایا۔بکر بن عبداللہ مزنی اور زیاد بن جبیر نے جبیر بن بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ وَزِيَادُ بْنُ حیہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : حضرت عمر جُبَيْرٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ قَالَ بَعَثَ نے لوگوں کو بڑے بڑے شہروں میں مشرکین سے عُمَرُ النَّاسَ فِي أَفْنَاءِ الْأَمْصَارِ جنگ کرنے کے لئے بھیجا۔آخر ہرمزان نے اسلام قبول کرلیا۔حضرت عمر نے (ان سے) کہا: میں تم يُقَاتِلُونَ الْمُشْرِكِيْنَ فَأَسْلَمَ الْهُرْمُزَانُ سے ان مقامات پر حملہ کے بارے میں مشورہ چاہتا فَقَالَ إِنِّي مُسْتَشِيْرُكَ فِي مَغَازِيَّ هَذِهِ ہوں۔اس نے کہا: ہاں۔ان مقامات کی مثال اور قَالَ نَعَمْ مَثَلُهَا وَمَثَلُ مَنْ فِيْهَا مِنَ ان لوگوں کی مثال جو ان میں ہیں یعنی وہ جو مسلمانوں النَّاسِ مِنْ عَدُوّ الْمُسْلِمِيْنَ مَثَلُ طَائِرِ کے دشمن ہیں ایک پرندے کی سی ہے جس کا سر بھی ہو لَهُ رَأْسٌ وَلَهُ جَنَاحَانِ وَلَهُ رِجْلَانِ اور جس کے دو بازو اور دو ٹانگیں بھی ہوں۔اگر دو فَإِنْ كُسِرَ أَحَدُ الْجَنَاحَيْنِ نَهَضَتِ بازوؤں میں سے ایک باز و توڑ دیا جائے تو دو ٹانگوں الرّجُلَانِ بِجَنَاحٍ وَالرَّأْسُ فَإِنْ كُسِرَ ایک بازو اور سر کے ساتھ اُٹھ کھڑا ہوگا اور اگر دوسرا بازو بھی توڑ دیا جائے تو دو ٹانگوں اور سر کے بل اُٹھ الْجَنَاحُ الْآخَرُ نَهَضَتِ الرِّجْلَانِ کھڑا ہوگا اور اگر سر کچل دیا جائے تو دونا نگیں اور دو بازو وَالرَّأْسُ وَإِنْ شُدِحَ الرَّأْسُ ذَهَبَتِ اور سرنا کارہ ہو جائیں گے۔سر تو کسری ہے اور ایک الرِّجْلَانِ وَالْجَنَاحَانِ وَالرَّأْسُ فَالرَّأْسُ باز و قیصر اور دوسرا باز و فارس۔اس لئے مسلمانوں کو كِسْرَى وَالْجَنَاحُ قَيْصَرُ وَالْجَنَاحُ حکم دیں کہ وہ کسری کی طرف نکلیں۔بکر اور زیاد دونوں الْآخَرُ فَارِسُ فَمُرِ الْمُسْلِمِيْنَ فَلْيَنْفِرُوا نے جبیر بن حیہ سے نقل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ إِلَى كِسْرَى وَقَالَ بَكْرٌ وَزِيَادٌ حضرت عمر نے ہمیں جنگ کیلئے روانہ کیا اور حضرت نعمان بن مقرن کو ہم پر امیر مقرر کیا۔جب ہم دشمن جَمِيعًا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ قَالَ فَنَدَ بَنَا کی سرزمین میں پہنچے اور کسری کا ایک افسر چالیس ہزار عُمَرُ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْنَا النُّعْمَانَ بْنَ سپاہ لے کر ہمارے مقابلے کے لئے آیا تو ایک مُقَرْنٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَرْضِ الْعَدُةِ ترجمان کھڑا ہوا اور کہنے لگا: چاہیے کہ تم میں سے ایک وَخَرَجَ عَلَيْنَا عَامِلُ كِسْرَى فِي شخص مجھ سے بات کرے۔حضرت مغیرہ بن شعبہ )