صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 508
حيح البخاری جلده ۵۰۸ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ کے باشندوں سے صلح کر لی تھی اور حضرت علاء بن صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ حضری کو ان کا امیر مقرر کیا تھا۔حضرت ابو عبیدہ بحرین الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِي فَقَدِمَ أَبُو کا مالیہ لے کر آئے اور انصار نے حضرت ابو عبیدہ کی عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِّنَ الْبَحْرَيْنِ فَسَمِعَتِ آمد کی خبر سنی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الْأَنْصَارُ بِقُدُوْمِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَوَافَقَتْ ساتھ آکر صبح کی نماز پڑھی۔جب آپ فجر کی نمازان صَلَاةَ الصُّبْحِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله کو پڑھا چکے تو آپ مڑے۔صحابہ آپ کے سامنے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى بِهِمُ الْفَجْرَ آبیٹھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوْا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ دیکھا تو آپ مسکرائے اور فرمایا: میں سمجھتا ہوں تم اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ رَآهُمْ نے سن لیا ہے کہ ابو عبیدہ کچھ لے آئے ہیں۔انہوں وَقَالَ أَظُنُّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: پھر تمہیں قَدْ جَاءَ بِشَيْءٍ قَالُوْا أَجَلْ يَا رَسُوْلَ بشارت ہو اور اسی بات کی امید رکھو جو تمہیں خوش اللَّهِ قَالَ فَأَبْشِرُوا وَأَمَلُوْا مَا يَسُرُّكُمْ کرے گی۔بخدا ! تمہارے متعلق مجھے محتاجی کا اندیشہ فَوَاللَّهِ لَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ وَلَكِنْ نہیں۔بلکہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں دنیا تمہارے أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ لئے اس طرح کشادہ نہ ہو جائے جس طرح ان لوگوں الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ پر کشادہ ہوئی تھی جو تم سے پہلے تھے اور پھر تم اس میں قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوْهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا اس طرح ایک دوسرے سے بڑھ کر حرص کرنے لگو جس طرح انہوں نے کی اور یہ حرص تمہیں بھی ویسے وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ۔أطرافه: ٤٠١٥، ٦٤٢٥۔ہی ہلاک کر دے جیسے انہیں ہلاک کیا ہے۔٣١٥٩: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوْبَ :۳۱۵۹ فضل بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِيُّ عبدالله بن جعفر رقی نے ہمیں بتایا۔معتمر بن سلیمان حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن عبید اللہ ثقفی نے ہمیں