صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 503 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 503

صحيح البخاری جلده ل ۵۰۳ ۵۷ - کتاب فرض الخمس تشریح: مَا كَانَ النَّبِيُّ الله يُؤْتِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمْسِ وَنَحْوِهِ: teen یہ باب اور اس کی دسوں روایتیں سابقہ موضوع ہی کی تائید میں ہیں ۔ امام کے فرائض منصبی وسیع ہیں۔ اس لیے جب تک اس کے مالی اختیارات وسیع نہ ہوں، وہ انہیں پورا نہیں کر سکتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کم و بیش ایک سوسات وفد آئے جن کی مہمان نوازی اور خاطر و تواضع میں آپ نے خاص اہتمام فرمایا اور ان کی واپسی پر انہیں تحائف اور اخراجات سفر تک دیئے ۔ آپ پر صرف جنگی اخراجات اور یتامی و مساکین وغیرہ کے نفقات ہی کا بوجھ نہ تھا، بلکہ ان کے علاوہ سیاسی معاملات اور عام نظم و نسق اور تبلیغ اسلام کے متعلقہ امور کے انصرام کی بھی ذمہ داری تھی۔ تالیف القلوب کا صیغہ اپنے مفہوم میں بہت وسعت رکھتا ہے۔ وفود کی خاطر تواضع کے تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت دیکھئے روایت نمبر ۳۱۶۸۔ روایت نمبر ۳۱۴۳ کے لئے دیکھئے کتاب الزكاة، باب الاستعفاف عن المسئلة، روایت نمبر ۱۴۷۲- تالیف قلب ہی کی غرض سے اموال غنیمت جو غزوہ حنین میں حاصل ہوئے تھے تقسیم کئے گئے تھے۔ امیران ہوازن کی آزادی کا واقعہ بھی تالیف قلب کی نوعیت سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کی تقسیم اموال خمس کے طریقہ پر ہوئی تھی جن میں سے حضرت عمر کو دو لونڈیاں ملی تھیں جو آزاد کر دی گئیں ۔ أَخَافُ ظَلَعَهُمْ وَجَزَعَهُمُ : ظَلْع کے معنی ہیں اِعْوِ جَاج ٹیڑھا پن۔اس سے مراد نفاق اور کمزوری ایمان ہے۔ ابو عاصم کے قول سے بتایا ہے کہ مشار الیہ مال بھی غنیمت کا تھا جس میں سے بعض کو تالیف قلب کی غرض سے دیا اور بعض کو نہیں دیا۔ اس سے بھی آپ کے اختیار و تصرف کی وسعت اور آپ کی بصیرت کا پتہ چلتا ہے۔ روایت نمبر ۳۱۴۶ کا تعلق اموال حنین ہی سے ہے جس کا ذکر روایت نمبر ۳۱۴۴ اور ۳۱۴۷ میں ہے۔ روایت نمبر ۱ ۳۱۵ میں ابو ضمرہ کی ہشام سے روایت مرسل ہے اور ابواسامہ کی موصولہ ، اس لئے اس کو مقدم کیا گیا ہے اور دوسری روایت کا ازاله ابو اسامه کی کی موصولہ روایت سے سے کیا کہ گیا ہے۔ روایت نمبر ۳۱۵۲ سے ظاہر ہے کہ اموال غنیمت کی تقسیم و تنقیل و تخمیں کا تعلق امام وقت کی رائے سے تعلق رکھتا ہے۔ مذکورہ بالا مثالوں سے جہاں معنونہ مسئلہ کی پوری طرح وضاحت ہوتی ہے، وہاں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال غنیمت کی تقسیم میں احکام الہی کو پوری طرح ملحوظ رکھ کر احسن تصرف کیا۔ چنانچہ آپ نے ہوازن کے قیدیوں کی واپسی کے وقت غازیوں سے فرمایا کہ ان میں سے جو اپنے حق پر قائم رہنا چاہے، وہ رہے۔ ہم اس کو اس کا حق پہلی غنیمت سے دیں گے۔ گویا آپ نے کسی غازی سے اس کا حق خلاف مرضی نظر انداز نہیں ہونے دیا۔