صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 502
صحيح البخاری جلده ۵۰۲ ۵۷ - کتاب فرض الخمس هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله روایت هشام بن عروہ) سے ( مرسلاً ) نقل کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ أَرْضًا مِنْ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی جائیدادوں میں سے ایک أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيْرِ۔طرفه: ٥٢٢٤۔زمین حضرت زبیر کو بطور جاگیر دی تھی۔٣١٥٢: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ۳۱۵۲ : احمد بن مقدام نے مجھ سے بیان کیا کہ فضیل حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔موسیٰ بن عقبہ نے مُوْسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا۔حضرت ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَى الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارَى خطاب نے یہودیوں اور عیسائیوں کو حجاز کے ملک سے جلاوطن کر دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ جب آپ اہل خیبر پر غالب آئے ، ارادہ فرمایا تھا کہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى یہودیوں کو وہاں سے نکال دیں اور جب آپ غالب أَهْلِ خَيْبَرَ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ الْيَهُودَ مِنْهَا آئے تو ان اراضی میں سے کچھ یہودیوں کیلئے رہیں وَكَانَتِ الْأَرْضُ لَمَّا ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلْيَهُودِ اور کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے اور کچھ مسلمانوں وَلِلرَّسُوْلِ وَلِلْمُسْلِمِيْنَ فَسَأَلَ الْيَهُودُ کے لئے۔اور یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ سے درخواست کی کہ زمین انہی کے قبضہ میں رہنے دیں، يَّتْرُكَهُمْ عَلَى أَنْ تَكْفُوا الْعَمَلَ وَلَهُمْ اس شرط پر کہ محنت وہ کریں گے اور آدھی پیداوار ان کی نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله ہوگی ( اور آدھی مسلمانوں کی۔) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تک ہم چاہیں گے اس شرط پر رہنے بھنویں گے۔چنانچہ وہ اس شرط پر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتْرُكُكُمْ عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَأُقِرُوا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ فِي حضرت عمر نے اپنی خلافت کے زمانے میں انہیں تیماء إمَارَتِهِ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيْحَاءَ۔یا کر بیجاء کی طرف نکال دیا۔اطرافه ۲۲٨٥، ۲۳۲۸، ۲۳۲۹، ۲۳۳۱، ۲۳۳۸، ٢٤۹۹، ٢٧٢٠، ٤٢٤٨۔لا فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ لفظ " نقِرُّکُم ہے (فتح الباری جزء ۶ حاشیہ صفحہ ۳۰۳)