صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 490
صحيح البخاری جلده ۴۹۰ ۵۷ - کتاب فرض الخمس شریح: وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِلإِمَامِ : بنو مطلب اور بنو ہاشم بھی عبد مناف کی اولاد سے تھے، جس طرح عبد شمس کی اولاد جن کی نسل سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے اور ابن نوفل کی اولاد بھی جن کی اولاد سے حضرت جبیر بن معظم تھے اور یہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں سے تھے۔مگر تقسیم غنائم میں ان کو دیا اور باقیوں کو نظر انداز فرما دیا۔جس کی وجہ یہ تھی کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں سخت اذیتیں اُٹھا ئیں اور مالی نقصان برداشت کئے۔عنوانِ باب میں حضرت عمر بن عبد العزیز کے قول کا حوالہ عمر بن شبہ نے اپنی کتاب اخبار المدینہ میں مفصل نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۲۹۳) بَابِ ۱۸: مَنْ لَّمْ يُخَمِّسِ الْأَسْلَابَ جو سامان سے پانچواں حصہ نہ نکالے وَمَنْ قَتَلَ قَتِيْلًا فَلَهُ سَلَبُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ اور جو مجاہد جنگ میں کسی کو قتل کرے تو جو سامان اس سے يُخَمِّسَ وَحُكْمُ الْإِمَامِ فِيْهِ۔ملا ہے وہ اس کا ہوگا بغیر اس کے کہ اس میں سے پانچواں حصہ نکالا جائے اور امام کا اس کے متعلق حکم دینا۔٣١٤١: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يُوسُفُ :۳۱۴۱ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یوسف بن بْنُ الْمَاجِشُوْنِ عَنْ صَالِحٍ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ماجشون نے ہمیں بتایا۔انہوں نے صالح بن ابراہیم بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيْهِ بن عبدالرحمن بن عوف سے، صالح نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ان کے دادا سے روایت کی کہ انہوں عَنْ جَدِهِ قَالَ بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي نے کہا: میں بدر کی لڑائی میں صف میں کھڑا تھا کہ میں نے الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي اپنے دائیں بائیں نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو انصاری وَشِمَالِي فَإِذَا أَنَا بِغُلَامَيْنِ مِنَ لڑکے ہیں۔ان کی عمریں چھوٹی ہیں۔میں نے آرزو کی الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ کہ کاش میں ایسے لوگوں کے درمیان ہوتا جو ان سے أَنْ أَكُوْنَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا فَغَمَزَنِی زیاده جوان تنومند ہوتے۔اتنے میں ان میں سے ایک نے مجھے ہاتھ سے دبا کر پوچھا: چا! کیا آپ ابو جہل کو أَحَدُهُمَا فَقَالَ يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔بھتیجے تمہیں اس سے أَبَا جَهْلٍ قُلْتُ نَعَمْ مَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ کیا کام ہے؟ اس نے کہا: مجھے بتلایا گیا ہے کہ وہ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رسول الله علی کو گالیاں دیتا ہے اور اس ذات کی قسم