صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 491
صحيح البخاری جلده ۴۹۱ ۵۷- کتاب فرض الخمس رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں اس کو وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا دیکھ پاؤں تو میری آنکھ اس کی آنکھ سے جدا نہ ہو گی يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوْتَ جب تک ہم دونوں میں سے وہ نہ وہ نہ مر جائے جس کی مدت پہلے مقدر ہے۔ مجھے اس سے تعجب ہوا۔ پھر الْأَعْجَلُ مِنَّا فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ فَغَمَزَنِي دوسرے نے مجھے ہاتھ سے دبایا اور اس نے بھی مجھ الْآخَرُ فَقَالَ لِي مِثْلَهَا فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ سے اسی طرح پوچھا۔ ابھی تھوڑا عرصہ گزرا ہو گا کہ نَّظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَجُولُ فِي میں نے ابو جہل کو لوگوں میں چکر لگاتے دیکھا۔ میں النَّاسِ فَقُلْتُ أَلَا إِنَّ هَذَا صَاحِبُكُمَا نے کہا: دیکھو یہ ہے وہ تمہارا ساتھی جس کے متعلق تم الَّذِي سَأَلْتُمَانِي فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا نے مجھ سے دریافت کیا تھا۔ یہ سنتے ہی وہ دونوں فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى جلدی سے اپنی تلواریں لئے اس کی طرف لیکے اور رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسے اتنا مارا کہ اس کو جان سے مار ڈالا اور پھر لوٹ کر فَأَخْبَرَاهُ فَقَالَ أَيُّكُمَا قَتَلَهُ قَالَ كُلُّ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔ آپ نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس کو وَاحِدٍ مِّنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ فَقَالَ هَلْ مارا ہے؟ دونوں نے کہا: میں نے اس کو مارا ہے۔ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا قَالَا لَا فَنَظَرَ آپ نے پوچھا: کیا تم نے اپنی تلواریں پونچھ کر صاف فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ كِلَاكُمَا قَتَلَهُ کرتی ہیں ؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے تلواروں سَلَبُهُ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوْحِ کو دیکھا ۔ آپ نے فرمایا: تم دونوں نے ہی اس کو مارا وَكَانَا مُعَاذَ بْنَ عَفْرَاءَ وَمُعَاذَ بْنَ ہے۔ اس کا سامانِ غنیمت معاذ بن عمرو بن جموح کو ☆ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوْحِ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ لے گا اور ان دونوں کا نام معاذ تھا۔ معاذ بن عفرا اور معاذ بن عمرو بن جموح - محمد نے کہا: یوسف سَمِعَ يُوْسُفُ صَالِحًا وَسَمِعَ إِبْرَاهِيمَ نے صالح ہے۔ ح سے سنا اور ابراہیم ۔ راہیم نے اپنے باپ حضرت أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ۔ عبد الرحمن بن عوف سے سنا۔ اطرافه: ٣٩٦٤، ٣٩٨٨۔ بعض روایات میں ہے کہ عفراء کے دو بیٹوں (معوذ اور معاف) نے ابو جہل کو موت کے قریب پہنچا دیا تھا، بعد ازاں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اس کا سرتن سے جدا کیا تھا۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب (۸) امام ابن حجر نے اس احتمال کا اظہار کیا ہے کہ معاذ بن عمرو اور معاذ بن عفراء کے بعد معوذ بن عفراء نے بھی اس پر وار کیا ہوگا ۔ ( فتح الباری شرح کتاب المغازی، باب ۸)