صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 482
صحيح البخاری جلده ۴۸۲ ۵۷- کتاب فرض الخمس مِمَّنْ لَّمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوْا حَتَّى يَرْفَعَ اجازت نہیں دی۔تم واپس جاؤ تاکہ تمہارے نقیب إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ ہمارے سامنے تمہارا مشورہ پیش کریں۔لوگ لوٹ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوْا إِلَى گئے اور ان کے نقیبوں نے ان سے بات چیت کی۔رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس فَأَخْبَرُوْهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوْا فَأَذِنُوْا فَهَذَا آئے اور انہوں نے آپ کو بتایا کہ انہوں نے خوشی سے مانا ہے اور اجازت دی ہے یہ وہ واقعہ ہے جو الَّذِي بَلَغَنَا عَنْ سَبْي هَوَازِنَ۔ہمیں ہوازن کے قیدیوں کی نسبت پہنچا ہے۔اطراف الحديث ۳۱۳۱ ۲۳۰۷، ٢٥۳۹، ٢٥٨٤، ٢٦٠٧، ٤٣١ ٧١٧٦۔اطراف الحدیث :۳۱۳۲ ۲۳۰۸، ٢٥٤۰، ٢٥٨٣، ۲٦٠٨، ۱۳۱۹، ۷۱۷۷ ۳۱۳۳: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۳۱۳۳ عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا کیا۔حماد نے ہمیں بتایا کہ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔أَيُّوْبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ وَحَدَّثَنِي انہوں نے ابو قلا بہر سے روایت کی کہ انہوں نے کہا۔الْقَاسِمُ بْنُ عَاصِمٍ الْكُلَيْبِيُّ وَأَنَا نيز قاسم بن عاصم کلیبی نے مجھ سے بیان کیا اور لِحَدِيْثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ عَنْ زَهْدَمِ میں قاسم کی حدیث کو زیادہ یا درکھتا ہوں کہ انہوں نے قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى فَأُتِيَ ذَكَرَ زہدم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری) کے پاس تھے۔مرغی کا ذکر آیا اور دَجَاجَةً وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللهِ اس وقت ان کے پاس بنی تیم اللہ کا ایک شخص بھی أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي فَدَعَاهُ لِلطَّعَامِ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا کوئی غلام ہے۔انہوں نے اس کو بھی کھانے پر بلایا۔فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَّا آكُلَ فَقَالَ اس نے کہا: میں نے اسے گندگی کھاتے دیکھا ہے۔هَلُمَّ فَلَأُحَدِتْكُمْ عَنْ ذَلِكَ إِنِّي أَتَيْتُ اس سے مجھے کراہت ہوگئی اور میں نے قسم کھائی کہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اسے نہیں کھاؤں گا۔حضرت ابو موسیٰ نے کہا: ادھر آؤ نَفَرٍ مِّنَ الْأَشْعَرِيْنَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ میں اس بارہ میں تمہیں حدیث بتا تا ہوں بعض اشعری وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا لوگوں کے ساتھ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہ موجود تھا جس کا رنگ سرخ تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ