صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 481
صحیح البخاری جلده ۴۸۱ ۵۷ - کتاب فرض الخمس رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ان سے فرمایا: مجھے سب سے پیاری بات وہ لگتی أَحَبُّ الْحَدِيْثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا ہے جو نہایت سچی ہو۔ تم دو چیزوں میں سے ایک پسند إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ وَإِمَّا کر لو۔ قیدی یا مال اور میں نے تم لوگوں کے انتظار میں الْمَالَ وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْتَيْتُ بِهِمْ وَقَدْ ان کی تقسم میں تاخیر کی تھی اور ہوا یہ تھا کہ رسول اللہ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم جب طائف سے لوٹ کر آئے تو آپ نے دس دن سے کچھ اوپر ان کا انتظار کیا تھا۔ پس جب وَسَلَّمَ انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ان پر یہ واضح ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو حِيْنَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ واپس نہیں دیں گے۔ مگر دو چیزوں میں سے ایک ہی أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یز۔ تو انہوں نے کہا: پھر ہم یہی پسند کرتے ہیں کہ غَيْرُ رَادٍ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ ہمارے قیدی واپس کئے جائیں۔ اس وقت رسول اللہ قَالُوْا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُوْلُ اللهِ صلى اللہ علیہ وسلم مسلمانوں میں (خطبہ کیلئے ) کھڑے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِيْنَ ہوئے اور آپ نے اللہ کی وہ تعریف کی جس کے وہ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ لائق ہے ۔ پھر آپ نے فرمایا: دیکھو تمہارے یہ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ قَدْ بھائی تو بہ کر کے ہمارے پاس آئے ہیں اور میں نے جَاءُوْنَا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ مناسب سمجھا کہ ان کو ان کے قیدی واپس کردوں ۔ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَيِّبَ سوجو خوشی سے یہ بات پسند کرے تو انہیں واپس فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ کر دے اور جو تم میں سے یہ چاہے کہ وہ اپنے حصے یہ پر ہی رہے تو وہ بھی واپس کر دے۔ ہم اس کو اس کا حصہ عَلَى حَظِهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا اس پہلی کے سے دے دیں گے جو اللہ ہمیں عطا کرے يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ گار لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم خوشی سے ان کے قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ لَهُمْ فَقَالَ قیدی ان کو واپس کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ لَهُمْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہم نہیں جانتے، تم میں إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ سے کس نے اس سے متعلق اجازت دی اور کس نے