صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 31
صحيح البخارى جلده ۳۱ بالله الحالي ٥٤ - كِتَابُ الشُّرُوطِ ی که در کار ۵۴ - كتاب الشروط شرط وہ امر ہے جس کے پائے جانے سے وہ بات لازم آئے جس کے لئے شرط کی گئی ہو؛ اور اگر نہ پائی جائے تو لازم نہیں ہوگی۔اَلشَّرُطُ هُوَ مَا يَسْتَلْزِمُ نَفْيُهُ نَفْيَ اَمْرِ اخَرَ غَيْرَ السَّبَبِ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴ ۳۸) مثلا کافر اسلام قبول کرتا ہے اور یہ شرط کرتا ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھے گا تو اُس کا اسلام قبول کرنا بے معنی ہوگا۔اور اگر یہ شرط کرے کہ اُسے کسی دوسرے شہر میں جانے کے لئے پابند نہیں کیا جائے گا تو یہ جائز ہوگا، کیونکہ سفر و قیام صحت اسلام کے لئے لازمی نہیں، مگر نماز لازمی ہے اور اس کی نفی اسلام قبول کرنے کی نفی ہے۔اس کتاب میں ایسی ہی شرائط کا ذکر ہے جو کسی امر کی صحت کے لئے بطور لزوم ہوں اور ان شرطوں کا بھی جن کی شریعت اسلامیہ اجازت نہیں دیتی۔بَاب ١ : مَا يَجُوْزُ مِنَ الشُّرُوْطِ فِي الْإِسْلَامِ وَالْأَحْكَامِ وَالْمُبَايَعَةِ اسلام قبول کرتے وقت احکام (فیصلوں ) اور معاملات سے متعلق جو شرطیں جائز ہیں ۲۷۱۲-۲۷۱۱: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ ۲۷۱۱-۲۷۱۲: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ لیٹ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، عقیل نے شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عروہ بن أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ زبیر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے مروان اور مسور بن مخرمہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يُخْبِرَانِ عَنْ أَصْحَابِ رضی اللہ عنہما سے سنا۔اُن دونوں نے بتایا کہ رسول اللہ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے روایت ہے۔انہوں نے لَمَّا كَاتَبَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو يَوْمَئِذٍ کہا: جب (دیبیہ میں) سہیل بن عمرو نے ( صلح نامہ ) كَانَ فِيْمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرِو لکھوایا تو اس وقت سہیل بن عمرو نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پر جو شرطیں لگائیں ( اُن میں یہ شرط بھی تھی ) کہ ہم میں أَنَّ لَا يَأْتِيْكَ مِنَا أَحَدٌ وَإِنْ كَانَ سے جو شخص آپ کے پاس آئے گو وہ آپ کے دین پر