صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 30 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 30

صحيح البخاری جلده ۳۰ ۵۳ - كتاب الصلح ہے۔ واقعہ مذکورہ بالا میں مقروض پر تقاضا میں سختی ہوئی تھی جس سے بالطبع اُسے رنج پہنچا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سختی پر ناراضگی کا اظہار فرمایا اور وہ رنج قرضہ کم کر کے دور کیا گیا۔ یہ مقصود ہے عنوانِ باب کا۔ فقہاء نے میعاد سے قبل ادائیگی پر قرض میں کمی جائز قرار دی ہے اور میعاد کے بعد ادائیگی کے وقت کمی ان کے نزدیک جائز نہیں۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحہ۳۸۲) (عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحہ ۲۸۹) مگر یہاں صورت مصالحت کی ہے جس کا تعلق ازالہ ربخش سے ہے جیسا کہ الفاظ فَارُ تَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا سے ظاہر ہے۔ نیز اس تعلق میں کتاب الصلاة باب اے روایت نمبر ۷ ۴۵ بھی دیکھئے۔ فقہاء نے صلح کی دو قسمیں کی ہیں۔ ایک صلح الابراء اور دوسری صلح المعاوضہ رنجش کا ازالہ عفو کے ذریعہ سے دوسری معاوضہ دلا کر ۔ مذکورہ بالا واقعہ میں درمیانی صورت ہے۔ یعنی کمی کرا کے مصالحت کرانا اور اس کے لئے فقہاء نے نقد ادائیگی کی شرط رکھی ہے۔ عنوان باب میں اسی طرف اشارہ ہے۔ لفظ العین سے مراد ہے کہ معین شے مثلاً درہم یاد بنار قابل ادا ہوں تو درہم یاد بنا رہی نقد دیئے جائیں۔ بعض فقہاء نے میعاد سے قبل یا بعد درہم کا دینار سے یا دینار کا درہم سے معاوضہ جائز قرار دیا ہے اور بعض نے ناجائز ۔ معاوضہ یہ ہے کہ نقدی کے عوض مکان یا جانور دے دیا جائے۔ كفاية الأخيار، فصل في الصلح، جزء ثانی صفحه ۱۱۰، ۱۱۱) (بداية المجتهد، کتاب الصلح، جزء ثانی صفحه (۲۲) 0000000000