صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 477
صحيح البخاری جلده ۴۷۷ ۵۷ - کتاب فرض الخمس تَسَعُ لِهَذِهِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَرَأَيْتَكَ سکیں گی۔ حضرت عبداللہ نے ان سے کہا: بھلا بتلائیں إِنْ كَانَتْ أَلْفَيْ أَلْفِ وَمِائَتَيْ أَلْفِ قَالَ تو سہی اگر وہ قرضہ بائیس لاکھ ہو تو؟ انہوں نے کہا: مَا أَرَاكُمْ تُطِيقُوْنَ هَذَا فَإِنْ عَجَزْتُمْ میں نہیں سمجھتا کہ تم اسے ادا کر سکو گے۔ اگر تم اس میں مدد۔ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَاسْتَعِينُوا بِي قَالَ سے کسی قرضہ کی ادائیگی نہ کر سکوت مجھ سے مد دلینا کہتے تھے: حضرت زبیر نے غابہ ایک لاکھ ستر ہزار ( در هم ) وَكَانَ الزُّبَيْرُ اشْتَرَى الْغَابَةَ بِسَبْعِيْنَ میں لیا تھا تو حضرت عبداللہ نے اس کو سولہ لاکھ پر وَمِائَةِ أَلْفِ فَبَاعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِأَلْفِ أَلْفِ فروخت کیا۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور کہا: زبیر کے ذمہ وَسِيِّ مِائَةِ أَلْفِ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مَنْ كَانَ جس کا کوئی حق ہو تو وہ ہمیں غابہ میں آکر ملے۔ چنانچہ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ حَقٌّ فَلْيُوَافِنَا بِالْغَابَةِ حضرت عبد اللہ بن جعفر ان کے پاس آئے اور حضرت فَأَتَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَكَانَ لَهُ عَلَی زیر کے ذمہ ان کا چار لاکھ قرضہ تھا تو انہوں نے حضرت الزُّبَيْرِ أَرْبَعُ مِائَةِ أَلْفِ فَقَالَ لِعَبْدِ اللهِ عبداللہ سے کہا: اگر تم چاہو تو میں تمہیں چھوڑے دیتا ہوں۔ حضرت عبداللہ نے کہا: نہیں۔ حضرت عبداللہ بن إِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُهَا لَكُمْ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا جعفر نے کہا: اچھا۔ اگر تم چاہو تو (میرے) اس قرضہ قَالَ فَإِنْ شِئْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِيمَا کو ان قرضوں میں رکھو جو تم بعد میں ادا کرو گے۔ اگر تُؤَخِّرُوْنَ إِنْ أَخَّرْتُمْ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا تمہیں کوئی قرضہ بعد میں ادا کرنا ہے۔ حضرت عبداللہ قَالَ قَالَ فَاقْطَعُوْا لِي قِطْعَةً قَالَ نے کہا: نہیں۔ کہتے تھے انہوں نے کہا: تو میرے لئے عَبْدُ اللَّهِ لَكَ مِنْ هَاهُنَا إِلَى هَاهُنَا قَالَ پھر ایک ٹکڑا الگ کر دو۔ حضرت عبداللہ نے کہا: آپ فَبَاعَ مِنْهَا فَقَضَى دَيْنَهُ فَأَوْفَاهُ وَبَقِيَ کے لئے یہاں سے یہاں تک ہوگا۔ کہتے تھے : حضرت مِنْهَا أَرْبَعَةُ أَسْهُم وَنِصْفٌ فَقَدِمَ عبداللہ نے غابہ کی زمین کا ایک حصہ بچا اور اس سے ان کا سارا قرضہ ادا کر دیا اور پورے کا پورا ادا کیا اور عَلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ اس غابہ کی زمین سے ساڑھے چار حصے بچ گئے ۔ پھر وَالْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ عبد اللہ بن زبیر معاویہ کے پاس آئے اور ان کے پاس لَهُ مُعَاوِيَةُ كَمْ قُوَّمَتِ الْغَابَةُ قَالَ كُلُّ عمرو بن عثمان، منذر بن زبیر اور ( عبداللہ ) بن زمعہ سَهْمِ مِائَةُ أَلْفِ قَالَ كَمْ بَقِيَ قَالَ بیٹھے تھے۔ معاویہؓ نے ان سے پوچھا: غابہ کی کیا قیمت