صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 478 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 478

صحيح البخاری جلده ۴۷۸ ۵۷- کتاب فرض الخمس أَرْبَعَةُ أَسْهُم وَنِصْفٌ قَالَ الْمُنْذِرُ بْنُ ڈالی گئی تھی؟ انہوں نے کہا: ہر حصہ ایک لاکھ کا تھا۔ الزُّبَيْرِ قَدْ أَخَذْتُ سَهْمَا بِمِائَةِ أَلْفِ انہوں نے پوچھا: کتنا باقی رہ گیا ہے؟ عبداللہ نے کہا: وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَدْ أَخَذْتُ ساڑھے چار حصے۔ منذر بن زبیر نے کہا: میں نے سَهُما بِمِائَةِ أَلْفِ وَقَالَ ابْنُ زَمْعَةَ قَدْ ایک حصہ ایک لاکھ درہم میں لے لیا۔ عمر بن عثمان نے کہا: میں نے بھی ایک حصہ ایک لاکھ درہم میں لے لیا أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفِ فَقَالَ اور (عبداللہ ) بن زمعہ نے کہا: میں نے بھی ایک مُعَاوِيَةُ كَمْ بَقِيَ فَقَالَ سَهُمْ وَنِصْفُ حصہ ایک لاکھ میں لے لیا۔ معاویہ نے کہا: باقی کتنے قَالَ قَدْ أَخَذْتُهُ بِخَمْسِيْنَ وَمِائَةِ أَلْفِ سے رہے؟ انہوں نے کہا: ڈیڑھ حصہ۔ معاویہؓ نے کہا: قَالَ وَبَاعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ نَصِيبَهُ میں نے اس کو ایک لاکھ پچاس ہزار میں لے لیا۔ کہتے مِنْ مُعَاوِيَةَ بِسِتِ مِائَةِ أَلْفِ فَلَمَّا فَرَغَ تھے: عبداللہ بن جعفر نے اپنا حصہ معاویہ کے ہاتھ چھ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ قَضَاءِ دَيْنِهِ قَالَ بَنُو لاکھ درہم پر بیچا۔ جب عبد اللہ بن زبیر ان کا قرض ادا کرنے سے فارغ ہوئے تو حضرت زبیر کے بیٹے کہنے الزُّبَيْرِ اقْسِمْ بَيْنَنَا مِيْرَاثَنَا قَالَ لَا وَاللَّهِ لگے : اب ہماری میراث ہمارے درمیان تقسیم کریں۔ لَا أُقْسِمُ بَيْنَكُمْ حَتَّى أُنَادِيَ بِالْمَوْسِمِ انہوں نے کہا: بخدا میں تمہارے درمیان اس وقت أَرْبَعَ سِنِينَ أَلَا مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ تک نہیں تقسیم کروں گا جب تک کہ چار سال تک حج دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا فَلْنَقْضِهِ قَالَ فَجَعَلَ كُلَّ کے موقع پر یہ منادی نہ کرلوں کہ زبیر کے ذمہ جس کا سَنَةٍ يُنَادِي بِالْمَوْسِمِ فَلَمَّا مَضَى قرضہ ہو وہ ہمارے پاس آئے تا ہم اس کو ادا کر دیں۔ أَرْبَعُ سِنِينَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ قَالَ وَكَانَ کہتے تھے: ہر سال وہ حج کے موقع پر یہ منادی کیا لِلزُّبَيْرِ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ وَرَفَعَ الثُّلُثَ کرتے تھے۔ جب چار سال گزر گئے تو انہوں نے ان فَأَصَابَ كُلَّ امْرَأَةٍ أَلْفُ أَلْفِ وَمِائَتَا میں ترکی تقسیم کیا۔ انہوں نے کہا: حضرت زبیر کی چار بیویاں تھیں اور حضرت عبداللہ نے ایک تہائی نکالا۔ أَلْفِ { * فَجَمِيعُ مَالِهِ خَمْسُونَ أَلف پھر بھی ایک یوں کو بارہ بارہ لاکھ ص ملا اور ان أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ۔} حصہ ☆ کی ساری جائیداد پانچ کروڑ اور دولاکھ درہم تھی۔ یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۲۷۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔