صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 476 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 476

صحيح البخاری جلده ۴۷۶ ۵۷ - کتاب فرض الخمس فِي كُرْبَةٍ مِنْ دَيْنِهِ إِلَّا قُلْتُ يَا مَوْلَى کہتے تھے: اللہ کی قسم! میں ان کا قرضہ ادا کرنے میں الزُّبَيْرِ اقْضِ عَنْهُ دَيْنَهُ فَيَقْضِيْهِ فَقُتِلَ جب بھی کسی گھبراہٹ میں ہوا تو میں نے یوں دعا کی: الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَمْ يَدَعْ دِيْنَارًا اے زیر کے مولی ! ان کی طرف سے ان کا قرضہ ادا وَلَا دِرْهَمًا إِلَّا أَرَضِينَ مِنْهَا الْغَابَةُ کیجیو تو وہ ضرور اسے ادا کر دیتا۔ چنانچہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور انہوں نے نہ کوئی دینار وَإِحْدَى عَشْرَةَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ چھوڑا اور نہ درہم صرف زمینیں ہی چھوڑیں جن میں وَدَارَيْنِ بِالْبَصْرَةِ وَدَارًا بِالْكُوفَةِ نابہ تھا اور مدینہ میں ان کے گیارہ گھر تھے اور دوگھر وَدَارًا بِمِصْرَ قَالَ وَإِنَّمَا كَانَ دَيْنُهُ بصرہ میں اور ایک گھر کوفہ میں اور ایک گھر مصر میں الَّذِي عَلَيْهِ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَأْتِيْهِ چھوڑا ۔ حضرت عبداللہ کہتے تھے: اور وہ قرضہ جو ان بِالْمَالِ فَيَسْتَوْدِعُهُ إِيَّاهُ فَيَقُوْلُ الزُّبَيْرُ کے ذمہ تھا۔ صرف اسی وجہ سے ہوا تھا کہ کوئی شخص ان لَا وَلَكِنَّهُ سَلَفٌ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْهِ کے پاس مال لاتا اور ان کے ہاں امانت رکھتا اور الصَّيْعَةَ وَمَا وَلِيَ إِمَارَةً قَطُّ وَلَا جِبَايَةَ حضرت زبیر کہتے یہ امانت نہیں بلکہ قرض ہے ۔ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ضائع نہ ہو جائے اور حضرت خَرَاجٍ وَلَا شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي زبیر کبھی نہ سی امارت پر یا کسی خرچ کی وصول کی وصولی پر مقرر غَزْوَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہوئے اور نہ کسی اور کام پر بجز اس کے کہ نبی صلی اللہ أَوْ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ علیہ وسلم کی معیت یا حضرت ابوبکر و حضرت عمر و حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عثمان رضی اللہ عنہم کی معیت میں جنگ میں نکلتے۔ الزُّبَيْرِ فَحَسَبْتُ مَا عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ حضرت عبداللہ بن زبیر کہتے تھے: میں نے اس قرض کا فَوَجَدَتُهُ أَلْفَيْ أَلْفِ وَمِائَتَيْ أَلْفِ قَالَ حِساب کیا جو اُن کے ذمہ تھا تو میں نے اسے بائیں فَلَقِيَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ عَبْدَ اللهِ بْنَ لاکھ درہم پایا۔ کہتے تھے۔ تھے: حضرت حکیم بن حزام حضرت عبداللہ بن زبیر سے ملے اور پوچھنے لگے: میرے بھتیجے! الزُّبَيْرِ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي كَمْ عَلَى میرے بھائی پر کتنا قرضہ ہے؟ تو حضرت عبداللہ نے أَخِي مِنَ الدَّيْنِ فَكَتَمَهُ فَقَالَ مِائَةُ أَلْفِ ان سے چھپایا اور کہا: ایک لاکھ ۔ حضرت حکیم نے کہا: فَقَالَ حَكِيمٌ وَاللَّهِ مَا أَرَى أَمْوَالَكُمْ بخدا میں نہیں سمجھتا کہ تمہاری جائیدادیں اس کو نپٹا